7

سرکاری دفاتر وراثت میں ملنے والی چیز تو نہیں، اس طرح نوکریاں دینے سے میرٹ کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، سپریم کورٹ

سرکاری ملازمت کے اہل وہی بچے ہوں گے جن کے والد کا انتقال 2005 کے بعد ہوا، سپریم کورٹ آف پاکستان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سرکاری دفاتر وراثت میں ملنے والی چیز تو نہیں، اس طرح نوکریاں دینے سے میرٹ کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، سرکاری ملازمت کے اہل وہی بچے ہوں گے جن کے والد کا انتقال 2005 کے بعد ہوا، سپریم کورٹ کی وضاحت- تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ نے دوران سروس انتقال کرنے والے ملازمین کے بچوں کو نوکری دینے سے متعلق فیصلہ سنایا ہے کہ سرکاری ملازمت کے اہل وہی بچے ہوں گے جن کے والد کا انتقال 2005 کے بعد ہوا ہو جبکہ سال 2005 سے پہلے انتقال کرنے والے سرکاری ملازمین کے بچوں پر وزیراعظم پیکج لاگو نہیں ہوتا۔
سپریم کورٹ میں وزارت تعلیم میں دوران سروس فوت ہونے والے لعل محمد کے بیٹے سراج محمد کی اپنے والد کی جگہ بھرتی ہونے کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ سرکاری دفاتر وراثت میں ملنے والی چیز تو نہیں، اس طرح نوکریاں دینے سے میرٹ کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے مزید ریمارکس دیے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ باپ کا انتقال ہو تو بیٹا بھرتی ہو جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کم آمدن والے ملازمین کے لیے قانون بنا تھا لیکن بھرتی افسران کے بچے ہوتے ہیں، اے ایس آئی کا بیٹا کہتا ہے ڈائریکٹ ڈی ایس پی بھرتی کرو۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم پیکج کا اطلاق 2005 سے ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں درخواست گزار سراج محمد نے کہا کہ اپنے والد لعل محمد کی جگہ بھرتی ہونے کی درخواست دی جو وفاقی وزارت تعلیم نے مسترد کردی جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے مجھے بھرتی کرنے کا حکم دیا ہے۔ سراج محمد نے مؤقف اختیار کیا کہ جان کی قربانی تو سب کی برابر ہوتی چاہے 2005 سے پہلے کی ہو یا بعد کی ہو۔ بعدازاں عدالت عظمیٰ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں