38

جناب حمزہ شفقات………!

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ایک انتہائی فعال اور متحرک شخصیت ہیں۔ یہ پاکستان کے ان معدورے چند افسران میں سے ہیں جو
اپنے کام کو کام کی بجائے خدمت کے طور پر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اسلام آبادکے مقامی مکینوں کے ساتھ ساتھ غیر
ملکی سفارت خانوں میں تعینات بین الاقوامی برادری میں بھی عزت اور تکریم کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، جو بلا شبہ
انکی شخصیت پر اعتماد کا مظہر ہے۔ میری ان سے براہِ راست ملاقات نہیں ہے مگر میں ان سے روزانہ کبھی ان کی کار
کردگی کے ذریعے اور کبھی ان کی ہمدردی کے ذریعے ملتا رہتا ہوں اور میرے نزدیک عمل گفتار سے بہتر ہے کہ اصول
پر کار بند ڈی سی اسلام آباد نے عوام میں اپنا ایک مثبت امیج قائم کیا ہے جو قابلِ تحسین ہے۔ اس سے قبل مظفر گڑھ کے
ڈپٹی کمشنر امجد شعیب کی شہر کی خوبصورتی کے حوالے سے ان کی کار کردگی پر شاندار خراج تحسین پیش کرنے کا
مقصد کسی ذاتی مفاد کے لئے نہیں تھا بلکہ میرے خیال میں جب ہم تنقید کا حق استعمال کرتے ہوئے کسی کی نااہلی پر وزیر
اعظم سے لیکر کسی افسر تک کسی سے کوئی رعایت نہیں برتتے، تو وہاں یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم کسی کی اچھی کار
کردگی کی حوصلہ افزائی بھی اسی طرح کریں تاکہ وہ زیادہ بہتر طور پر خدمات انجام دے سکیں۔
ڈی سی ضلع کا سربراہ ہوتا ہے، اس کے پاس جہاں وسیع اختیارات ہوتے ہیں وہاں تمام محکموں کی سربراہی کی وجہ سے
ذمہ داریاں بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں اسلئے بہت سی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے میں کہیں تھوڑی سی کوتاہی کے بھی
بہت زیادہ اثرات ہوتے ہیں۔ مثلاً وہ کو آپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے امور کی نگرانی بھی کرتے ہیں، سرکل رجسٹرار کی
موجودگی کے باوجود ان کی ذمہ داریاں اپنی جگہ پر قائم رہتی ہیں اور کسی بھی ذیلی ادارے کی کوتاہیوں کا ملبہ ڈی سی
آفس کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسلام آباد میں ویسے تو زمینوں کے کئی مسائل ہیں، غیر قانونی قبضے بھی ہیں، قانونی و غیر قانونی
سوسائٹیاں ہیں، لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجیوں کے لٹ جانے کے مسائل ہیں لیکن سب سے اہم مسئلہ ان لوٹنے والے
لٹیروں کا دندناتے ہوئے پھرنا ہے۔ اسلام آباد کی کئی سوسائیٹیوں میں سب سے اہم دو ہاؤسنگ سوسائیٹیاں جموں و کشمیر
ہاؤسنگ سوسائٹی اور وزارت داخلہ ہاؤسنگ سوسائٹی شہر اقتدار کی دو ایسی ہاؤسنگ اسکیمیں ہیں جہاں عوام رُل گئے ہیں
اور دھائیاں دیتے ہوئے کئی لوگ رخصت ہی ہو گئے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ کبھی انصاف اور کبھی اختیارات کے ایوانوں
کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، مگر ان کے مسائل کا حل اسلئے نہیں کہ ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کی مینجمنٹ
مخلص نہیں ہے، نہ وہ کسی قانون کی پابند ہے اور نہ کسی ضابطے کی پرواہ، ان کی ان من مانیوں کی بدولت متاثرین
پریشانی کے عالم میں کبھی حکمرانوں پر الزام لگاتے ہیں اور کبھی صاحب اختیار لوگوں کے کردار کو داغدار کرتے ہیں،
اسکی ایک بڑی مثال شنید کے مطابق گزشتہ جون میں وزارت داخلہ ہاؤسنگ سوسائٹی انتخابی مہم میں کسی شخص کی
جانب سے سوسائٹی مینجمنٹ سے کوئی باز پرس نہ کرنے اور ان کی تمام تر خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ
سوسائٹی کی جانب سے ڈی سی صاحب کو ایک کمرشل پلاٹ کا عطیہ قرار دیاگیا جو کہ یقینا ایک لغو الزام ہے اور کوئی
بھی ذی شعور اس پر یقین نہیں کرتا، مگر جب لوگ دیکھتے ہیں کہ نہ تو مینجمنٹ قانون کی پابندی کرتی ہے اور نہ ہی
عوام کی آواز سنتی ہے اور اگر مینجمنٹ کے انتخابات میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انتہائی اہم قانونی اعتراضات کو
نظر انداز کردیا جائے تو شکوک ضرور جنم لیتے ہیں جو ایک صاف ستھرے کردار کے افسر کی ساکھ کے لئے کسی بھی
طور مناسب نہیں ہیں۔
جناب حمزہ شفقات صاحب ابھی نوجوان ہیں، ان کیلئے آگے بڑھنے اور خدمت کرنے کیلئے بہت سے مواقع ہیں، اگر وہ یہ
چاہتے ہیں کہ ان کا یہ بہترین عملی نمونہ قائم و دائم رہے تو انکو قانون کی عملداری کیلئے سخت گیر رویہ اختیار کرنا پڑے
گا، اگر کوئی شخص خواہ کسی بھی مقام و مرتبے کا ہے، وہ عوام کے حقوق غصب کرکے یا قوانین و ضوابط کا مذاق اڑا
کر ڈی سی صاحب کی شخصیت کو داغدار کرنے کا مرتکب ہو تو اسکے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتنی چاہئے، یہ صرف
ایک شخص کی ذات کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ہزاروں لوگوں کے حقوق کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اللہ پاک نے یہ ذمہ داری آپ کے
کندھوں پر ڈالی ہے، ان کی دعائیں آپ کی راہوں کو آسان کریں گی اور آپ کی ابدی خوشیوں کا باعث بنیں گی۔ ہمارے بہت
سے دوست جن میں روزنامہ حالات سرفہرست ہے آپ کی توجہ ان مسائل کی طرف مبذول کراتا رہتا ہے جبکہ خوشنود علی
خان، عقیل احمد ترین اور شمشاد مانگٹ جیسے نامور صحافی بھی اکثر و بیشتر ان موضو عات پر قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ آپ
کی شخصیت اور کار کردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ سے بجا طور پر یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ آپ بذات خود
متاثرین اور رہائشیوں سے رابطہ کرکے ان کی شکایات سنیں بھی اوران پر سخت ترین ایکشن بھی لیں۔ ہم آپ کی تمام تر
مخلصانہ کاوشوں کااعتراف کرتے ہوئے امید رکھتے ہیں کہ آپ عوام کے جائز مسائل کے حل کیلئے ان سے براہِ راست مل
کر ان کے حل کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کر بروئے کار لائیں گے۔ ہماری یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر
ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں