لیبیا کشتی حادثہ، ایف آئی اے نے ریڈبک کے انتہائی مطلوب انسانی سمگلر کو گرفتار کرلیا

ملزم زبیر لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ہے اور اس کے خلاف 2023 میں کمپوزٹ سرکل گجرات میں 8 مقدمات درج ہوئے ہیں، ملزم زبیر نے مجموعی طور پر متاثرین سے 1 کروڑ 92 لاکھ روپے ہتھیائے، ایف آئی اے

گوجرانوالہ ( کرائم ڈیسک ) فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے )نے ایک کارروائی کے دوران ریڈ بک کے ایک انتہائی مطلوب انسانی سمگلر کو گجرات سے گرفتار کرلیا، ملزم زبیر لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ہے اور اس کے خلاف 2023 میں کمپوزٹ سرکل گجرات میں 8 مقدمات درج ہوئے ہیں، فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق گرفتار ملزم یونان کشتی حادثے کا مرکزی ملزم ہے۔
ملزم زبیر نے مجموعی طور پر متاثرین سے 1 کروڑ 92 لاکھ روپے ہتھیائے اور اس نے 8 متاثرین کو لیبیا بھجوایا اور متاثرین کو سیف ہاوسز میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ زبیر مہر نے لیبیا کشتی حادثے کے 8 متاثرین سے فی کس 24 لاکھ روپے ہتھیائے۔ ملزم کا نام ریڈ بک کی انتہائی مطلوب انسانی سمگلرز کی فہرست میں شامل ہے۔
اور وہ انسانی سمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی گینگ کا رکن ہے۔

ملزم کو جدید وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے گجرات سے گرفتار کیا گیا۔ایف آئی اے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم جاوید حسین ایف آئی اے گجرات سرکل کو 7 مقدمات میں مطلوب تھا۔ ملزم یونان کشتی حادثے کے بعد روپوش ہو گیا تھا گرفتار ملزم لیبیا میں مقیم انتہائی مطلوب ملزم حمزہ سنیارے کا فرنٹ مین ہے۔ملزم سادہ لوح شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے لیبیا سے یورپ بھجوانے میں ملوث تھاملزم کی گرفتاری کیلئے متعدد بار چھاپے مار گئے۔
ملزم سے مزید تفتیش کا آغاز کر دیاگیا ہے ۔خیال رہے کہ چند روز قبل ایف آئی اے نے سمندر کے راستے معصوم شہریوں کو یورپ بھجوانے میں ملوث نیٹ ورک کو بے نقاب کیاتھا۔ ایف آئی اے نے سینیگال سے براستہ ایتھوپیا کراچی پہنچنے والے مسافرمحمد عثمان عمر سے پوچھ گچھ کی تھی۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق سینیگال سے براستہ ایتھوپیا کراچی پہنچنے والا مسافر گزشتہ سال لاہور ایئرپورٹ سے وزٹ ویزے پر سینیگال گیا تھا۔
مسافر یورپ جانے کیلئے چوہدری تیمور نامی انسانی سمگلر سے رابطے میں تھا۔مذکورہ ایجنٹ نے مسافر کو 25 لاکھ روپے کے عوض سپین پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ سینیگال پہنچنے پر مسافر کے والد نے ایجنٹ کو 25 لاکھ ادا کئے تھے۔ سینیگال پہنچنے پر ایجنٹ نے مسافر کا پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لیاتھا۔ ایجنٹ نے مسافر کے پاسپورٹ پر جعلی سٹیمپ لگا کر غیر قانونی طریقے سے یورپ بھیجنے کی کوشش کی تاہم ناکام رہاتھا۔
مسافر کو سینیگال میں 4 ماہ تک سیف ہاوسسز میں رکھا گیا جہاں مزید 13 پاکستانی بھی موجود تھے۔ مسافر نے بعد ازاں وطن واپسی کا فیصلہ کیا تھا۔تفتیش کے دوران مسافر نے انکشاف کیا کہ سید ضمیر شاہ نامی ایجنٹ ترکی میں غیر قانونی سفر کے انتظامات کرتا تھا جبکہ حاجی مرزا احسن بیگ موریطانیہ کی سرحد پر غیر قانونی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرتا تھا۔ مسافر سے مزید تفتیش جاری تھی۔