حلقہ پٹوار ڈھولیال تھانہ چونترہ میں جعلسازی اور فراڈ کا نیا کیس سامنے آگیا

متاثرہ شخص قاضی فضل جو کہ ان پڑھ ہے کو منشی عدیل نے کرپٹ مافیا سے مل کر نشانہ بنایا،غریب شخص کی کل زمین ہتھیا کر منشی عدیل نے اپنے حقیقی بھائی علی رضا کے نام منتقل کر دی ،متاثرہ شخص فرحت کاکمشنر راولپنڈی سے حصول انصاف کا مطالبہ

راولپنڈی (حالات انوسٹی گیشن سیل )تفصیلات کے مطابق سال 2018میں فرحت زبیر نامی شخص نے عدیل ولد مقصود پرائیویٹ منشی جو کہ بطور پٹواری موضع متعلقہ کا ریکارڈ و چارج سنبھالنے ہوئے سے فضل کو وراثت انتقال اندراج کروانے کا کہہ کرانتقال نمبر 2111کے تحت وراثت اندراج کروایا جبکہ 2112,2113,2114کے تحت اراضی ٹرانسفر بھی کردی گئی،واضح رہے کہ 2018میں موضع ڈہولیال کو کمپیوٹرائزڈ ہوئے کم و بیش چار سال گزر چکے تھے اور تاحال ریکارڈ منشی (فرضی پٹواری و نوسرباز ڈیلروں کے پاس موجود تھا)- ممبر بورڈ آف ریونیو کے نوٹیفکیشن کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے ملی بھگت سے ایک بیک ڈیٹ میں 437بوگس انتقالات درج و منظور کئے گئے اور اسی نوٹیفکیشن کو پیروں تلے روندتے ہوئے اراضی ریکارڈ سنٹر روات نے اسی غیر قانونی غیر آئینی ریکارڈ کو وصول کیا جبکہ نہ تو انتقال اندراج کا محکمہ مال مجاز تھا نہ ہی اراضی ریکارڈ سنٹر روات ریکارڈ لینے کا مجاز تھا،تمام تر فیسیں اور انتقال تصدیق تاریخ جعلسازی کا کھلا ثبوت ہے، موضع ڈہولیال کمپیوٹرائزڈ ہونے کے کئی سال بعد تک سرکاری ریکارڈ لینڈ مافیا کے پاس رہا اور اس میں مرضی کے مطابق ردو بدل ٹمپرنگ کی جاتی رہی جبکہ الیاس پٹواری جو کہ عادی مجرم ہے جس پر کئی پرچے اینٹی کرپشن راولپنڈی میں درج ہیں منتھلی ٹھیکے پر ریکارڈ دے کر موجیں کرتا رہا۔

(دائیں سے بائیں) کرپٹ منشی میاں عدیل کا فراڈ کے پیسوں پر پرتیش اور قیمتی گاڑیوں میں اسلام آباد اور ترکی میں سیر سپاٹے جبکہ اصل متاثرہ مالک جائیداد قاضی فضل (ساکن ڈھلیال)غربت کی منہ بولتی تصویر- کیا حکام بالا کو مزید ثبوت اور حکائق درکار ہیں؟

متاثرہ غریب شخص نے جو دل کے عارضے میں مبتلا ہے نے ہاتھ جوڑ کر وزیراعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ، وزیراعلی پنجاب محسن نقوی، چیف سیکرٹری پنجاب،ڈی جی اینٹی کرپشن ، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے اپیل کی ہے کہ اس کی جدی زمین اسے واپس دلائی جائے اور ملزمان کے منظم نیٹ ورک کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے کہ وہ کئی سال سے دربدر دفتروں میں دھکے کھا رہا ہے اور اس کی کہیں شنوائی نہیں ہوئی، واضح رہے کہ کمشنر دفتر سے دو مرتبہ متعلقہ شخص کی شکایت پر ضلعی انتظامیہ کو کاروائی کی ہدایت کی گئی جو کہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دی گئی جبکہ اینٹی کرپشن راولپنڈی دفتر سے بھی متاثر شخص کی درخواست ڈی سی پنڈی کو کاروائی و تحقیقات کے لیے مارک کی گئی جس کا تاحال کچھ پتہ نہیں چلامتاثرہ شخص نے کمشنر راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مجھے انصاف فرائم کیا جائے اور اس کرپٹ منشی بمعہ کرپٹ مافیا کو کڑی سے کڑی سزا دیکر نشان عبرت بنایا جائے اور میری زمین واپس دلائی جائے-