سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مخصوص نشستوں کے 76 ارکان کی رکنیت آج معطل ہونے کا امکان

الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرے گا، قومی اسمبلی کے 23 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے 53 ارکان کی رکنیت معطل ہوگی. الیکشن کمیشن ذرائع کے حوالے سے رپورٹ

اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں مخصوص نشستوں پرکامیاب قرار دیے گئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 76 ارکان کی رکنیت آج معطل ہونے کا امکان ہے الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے پر مشاورت مکمل کرلی جس کے بعد آج باقاعدہ فیصلہ آنے کا امکان ظاہرکیا جا رہا ہے. نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرے گا، قومی اسمبلی کے 23 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے 53 ارکان کی رکنیت معطل ہوگی.
یاد رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی اور مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا تھا جسٹس منصور علی شاہ نے کہا تھا کہ ہم کیس کو سماعت کے لیے منظور کر رہے ہیں ہم الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو معطل کر رہے ہیں تاہم فیصلوں کی معطلی اضافی سیٹیں دینے کی حد تک ہو گی.
قبل ازیں 4 مارچ کو الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردی تھیں الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی سنی اتحاد کونسل کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہیں گی، یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی.
الیکشن کمیشن نے تمام خالی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان (جو یو آئی ف) کو دینے کی درخواست منظور کی تھی بعد ازاں 14 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا تھا.