سندھ کے آم کے باغات میں بیماری پھیلنے کا انکشاف

صوبائی وزیر زراعت کا نوٹس، آموں کے باغات میں پھیلنے والی بیماری پر جلد از جلد کنٹرول کرنے کی ہدایت

کراچی ( نیوز ڈیسک ) سندھ کے آم کے باغات میں بیماری پھیلنے کا انکشاف، صوبائی وزیر زراعت کا نوٹس، آموں کے باغات میں پھیلنے والی بیماری پر جلد از جلد کنٹرول کرنے کی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر نے آم کے باغات میں بیماری پھیلنے کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو آم کے باغات میں پھیلنے والی بیماری کے خاتمے کےلئے فوری طور پر علاقوں میں ٹیمیں بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔
پیر کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق انہوں نے مزید سیکریٹری زراعت رفیق احمد برڑو اور ڈی جی زراعت کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آم کے باغات میں پھیلنے والی بیماری کو جلد کنٹرول کیا جائے، آم کے باغات کو لگنے والی بیماری کے خاتمے کیلئے فورن کیڑے مارسپرے کیا جائے۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل آم کی فصل کے تحفظ کیلئے محکمہ زراعت نے اہم ہدایات جاری کی تھیں۔

محکمہ زراعت نے باغبانوں کو آم کی فصل کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لئے پودوں کو گھیرے میں پلاسٹک شیٹ بچھانے کا مشورہ دیا تھا ۔ اس عمل سے زمین میں موجود کیڑوں کے پروانے باہر نہیں نکل سکتے ، اس لئےجو سنڈیاں پیوپا بنانے کےلئے پودوں سے نیچے گرتی ہیں وہ بھی مٹی تک نہیں پہنچ پاتیں اور پلاسٹک شیٹ کے اوپر ہی مر جاتی ہیں جس سے آم پر بور کی مکھی کے حملے کاخدشہ نہیں رہتا۔
محکمہ زراعت کے ترجمان نے بتایا کہ پھل بننے اور نئے پتے نکلنے کے مرحلے پر بور کی مکھی کی سنڈیاں پھل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جس سے پھل کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس بیماری سے پتے بھی مختلف جگہوں سے چڑ مڑ ہوجاتے ہیں، باغبان اس کیڑے کے مؤثر کنٹرول کےلئے مربوط طریقہ انسداد کی حکمت عملی اپنا کر نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ باغبان آم کے باغات اور درختوں پر خصوصی نظر رکھیں اور اگر کسی جگہ پر بٹور والے پھول نظر آئیں تو بلا توقف انہیں سبز حالت میں ہی کاٹ کر تلف کر دیا جائے تاکہ وہ دیگر صحت مند پھولوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔
باغبانوں کو مشورہ دیا گیا کہ آم کے درختوں کو ایک کلوگرام فی پودا یوریا کھاد بھی ڈالیں اور پھل کو صحت مند رکھنے کےلئے آبپاشی بھی جاری رکھیں، 10سے 14 روز کے وقفہ سے سفوفی پھپھوندی کے خلاف پھپھوند کش زہروں کا استعمال کریں تاکہ آم کی فصل کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔