لبنان میں اسرائیلی فورسز کا حملہ، حماس رہنما حسن فرحات بچوں سمیت شہید

بیروت: (انٹرنیشنل ویب ڈیسک) اسرائیلی فوج کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ لبنان میں کئے گئے ایک ٹارگٹڈ حملے کے دوران حماس رہنما کو بچوں سمیت شہید کردیا گیا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنانی وزیر اعظم نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ”لبنانی خود مختاری پر کھلا حملہ“ اور اسرائیل کے ساتھ 27 نومبر کی جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اسرائیلی فوج کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ رات کے وقت صیدا کے علاقے میں ایک ٹارگٹڈ حملہ کیا گیا ہے، جس میں لبنان میں موجود حماس رہنما حسن فرحات کو شہید کردیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے الزام لگایا ہے کہ حماس کے کمانڈر حسن فرحات نے اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے دوران اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں پر متعدد حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ایک فلسطینی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ صیدا کے رہائشی علاقے میں ایک فلیٹ پر حملے میں حماس کمانڈر، ان کا بیٹا اور بیٹی شہید ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے سے متاثرہ فلیٹ کی چوتھی منزل پرآگ لگ گئی تھی، جس سے آس پاس کی عمارتوں کو بھاری نقصان پہنچا اور گنجان آباد محلے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لبنان کے سرکاری میڈیا نے صبح کے وقت سیڈون پر حملے کی اطلاع دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ حملے میں کم از کم تین افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔