“ہوشربا اور ناقابلِ برداشت مہنگائی عوام کی عید کی خوشیاں نگل گئی، بازاروں میں عید کا 70 فیصد سامان فروخت ہی نہ ہو سکا”
اسلام آباد ( کامرس ڈیسک ) 2025ء کا عید سیل سیزن بدتر اور تباہ کن قرار، “ہوشربا اور ناقابلِ برداشت مہنگائی عوام کی عید کی خوشیاں نگل گئی، بازاروں میں عید کا 70 فیصد سامان فروخت ہی نہ ہو سکا”۔ تفصیلات کے مطابق جہاں ایک جانب حکومت کی جانب سے ملک میں مہنگائی 6 دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ جانے کا دعوٰی کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب عوام کی حالت بالکل نہیں بدل سکی۔
حکومت کے مہنگائی کم ہو جانے کے دعووں کے برعکس عید 2025 کا سیل سیزن انتہائی بدترین ثابت ہوا۔ تاجروں کے مطابق عید سیل سیزن پر 70 فیصد مال فروخت ہی نہ ہو سکا۔ ناقابل برداشت مہنگائی اور قوت فروخت میں کمی نے عوام سے عید کی خوشیاں چھین لیں۔ تاجروں نے عید سیل کے حوالے سے سال 2025کو 2024 سے بھی بدتر اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹیں عید کی روایتی خریداری کی منتظر رہیں۔
تاجروں کے لیے کاروباری و گھریلو اخراجات پورا کرنا مشکل اور ادھار پر لیے گئے مال کی ادائیگیوں کے لالے پڑگئے۔ حسبِ روایت رواں سال بھی ماہِ رمضان میں مصنوعی مہنگائی مافیا اور موقع پرستوں نے مہنگائی کی روک تھام کے حکومتی اداروں کی ملی بھگت سے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچاکر غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی اور ان کے لیے زندگی کی بنیادی سہولیات کا حصول مشکل ترین بنا دیا۔
صرف ایک سال میں عید پر فروخت ہونے والے سامان کی قیمتوں میں 40 تا 50فیصد اضافہ ہوا۔ عید الفطر سے قبل ہونے والی خریداری گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 تا 30 فیصد کم رہی۔ عید پر فروخت کے لیے گوداموں میں جمع کیا گیا 60تا 70فیصد سامان دھرا کا دھرا رہ گیا اور تاجروں کے مطابق رواں سال بمشکل 15ارب روپے کا مال فروخت ہوسکا۔ تباہی سے دوچار کاروبار، محدود آمدنی اور تسلسل کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہوشربا اور ناقابلِ برداشت مہنگائی عوام کی عید کی خوشیاں بھی نگل گئی۔
قوتِ خرید نہ ہونے کے سبب عید کی زیادہ تر خریداری خواتین اور بچوں کے ریڈی میڈ گارمنٹس، جوتے، پرس، کھلونے، ہوزری، آرٹیفیشل جیولری اور زیبائش کے سستے سامان تک محدود رہی جب کہ بیشتر خریداروں نے خواہشات کے برعکس صرف ایک سوٹ خریدنے پر ہی اکتفا کیا۔