اسرائیل نے غزہ کے گنجان آباد ترین شہر رفح پر بڑے حملے کا آغازکردیا‘19فلسطینی ہلاک

اقوام متحدہ اور عالمی ادارے رفح پر حملے پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں‘شہر میں دس لاکھ سے زیادہ مہاجر موجود ہیں‘اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت اور رکن ممالک سے اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ

غزہ( انٹرنیشنل ڈیسک ) اسرائیل نے غزہ کے گنجان آباد ترین شہر رفح پربڑے حملے کا آغازکرتے ہوئے بمباری کی ہے جس سے 19فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں اسرائیلی فوج نے رفح پر پہلی بمباری دو مختلف مقامات پرکی ہے جبکہ فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے کرم شالوم راہداری میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے تین کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے.
اسرائیلی افواج نے ایک مکان کو نشانہ بنایا جس میں تین فلسطینی ہلاک اور متعداد افراد زخمی ہوئے اسرائیلی فوج نے اپنے اس حملے کو جوابی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ کرم شالوم راہداری میں تین اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لیا گیا ہے. اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فوج نے اس بمباری کے نتیجے میں اس جگہ کو نشانہ بنایا ہے جو راکٹ لانچنگ کے لیے استعمال کی گئی تھی انہوں نے لانچنگ پیڈ اور اس کے ساتھ ہی واقع حماس کے انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے.
اسرائیلی فوج کی طرف سے دوسری بمباری رات گئے کی گئی جس میں9 نو فلسطینی ہلاک ہوئے رفح پر بمباری کے دونوں واقعات پر فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ دونون واقعات میں مجموعی طور 19 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں واضح رہے کہ ”اردوپوائنٹ“نے چار مئی کو عالمی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا تھا کہ اسرائیل نے گنجان آباد ترین شہر رفح پر بڑے زمینی حملے کی تیاری مکمل کرلی ‘اسرائیلی فورسز”آپریشن رفح“شروع کرنے کے لیے عالمی امدادی تنظیموں کے علاقے سے نکلنے کا انتظار کررہی ہیں ‘عالمی ادارہ صحت نے بڑے پیمانے پر اموات اور زخمیوں کے لیے ہنگامی منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت فیلڈ ہسپتالوں کی تعداد میں اضافہ شامل ہے ڈبلیوایچ او کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بڑی تعداد میں اموات کو روکنے کی استعداد نہیں رکھتا .
جریدے”پولیٹیکو“ کے مطابق اسرائیل نے امریکی صدر جو بائیڈن اور عالمی امدادی تنظیموں کو رفح سے رہائشیوں کی منتقلی شروع کرنے کے اپنے منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں48گھنٹوں میں محفوظ جگہوں پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے اسرائیل رہائشیوں کو رفح سے غزہ کے جنوب مغربی ساحل پر المواسی منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جبکہ وائٹ ہاﺅس کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے رفح میں اسرائیلی آپریشن کے لیے کوئی جامع منصوبہ نہیں دیکھا ہم کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے اسرائیل کے ساتھ رفح کے حوالے سے بات چیت جاری رکھنا چاہتے ہیں دوسری طرف ”وال سٹریٹ جنرل“ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل نے حماس کو جنگ بندی کے معاہدے پر رضا مندی کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے جنگ بندی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اسرائیل رفح میں فوجی آپریشن شروع کر دے گا.
جریدے نے بتایا تھاکہ حماس ایک طویل مدتی جنگ بندی کی خواہاں ہے اور امریکہ سے اس بات کی ضمانت چاہتی ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کا احترام کرے گا حماس کے عہدیداروں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ تازہ ترین تجویز بہت مبہم ہے اور اسرائیل کو دوبارہ لڑائی شروع کرنے کی گنجائش فراہم کر رہی ہے. اسرائیلی جریدے ” یدیعوت احرونوت“ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر رفح میں متوقع آپریشن کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اسرائیلی فورسزکے چیف آف سٹاف نے غزہ کی پٹی میں حماس کے آخری مضبوط گڑھ میں آپریشن کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کا تخمینہ ہے کہ اگلے 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر غزہ کی پٹی میں آپریشن کا فیصلہ کرلیا جائے گا.
رفح غزہ میںبے گھر ہونے والے مہاجرین کی آمد سے گنجان آباد ترین شہر بن چکا ہے اور شہر میں دس لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینی رہائش پذیر ہیں اقوام متحدہ کے مطابق گنجان آباد ترین شہر پر حملے سے بہت بڑاانسانی المیہ رونما ہونے کا اندیشہ ہے. گزشتہ روزاسرائیل نے دوٹوک الفاظ میں ایسے کسی معاہدے کو ماننے سے انکار کردیا تھا جس میں رفح پر حملہ نہ کرنے کی شرط شامل ہو اسرائیل نے کہا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود وہ رفح پر حملہ کرئے گا دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے تنظیم کے رکن ممالک سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے.
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں تنظیم نے اپنے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کریں اور غزہ میں نسل کشی کے جرم میں فوج کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی برآمد روکیں. قرارداد میں ارکان پر زور دیا گیا کہ وہ قابض اسرائیلی جرائم اور فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی روکنے کے لیے پابندیوں سمیت سفارتی، سیاسی اور قانونی اقدامات کریںتنظیم کے بیان میں فوری، مستقل اور غیر مشروط فائر بندی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے نومبر 2023 میں ریاض میں او آئی سی اورعرب لیگ کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا تھا جس میں غزہ میں اسرائیلی افواج کی کارروائیوں کی مذمت تو کی گئی، لیکن اسرائیل کے خلاف تادیبی اقتصادی اور سیاسی اقدامات کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا لیکن دسمبر 2023 میں او آئی سی نے جنوبی افریقہ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں اسرائیل کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا خیر مقدم کیا تھا اس کارروائی میں جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا الزام عائد کیا تھا.
15ویں او آئی سی سربراہ اجلاس مصر کا دارالحکومت قاہرہ میں ہورہا ہے جہاں غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے بدلے مجوزہ فائربندی پر ایک اجلاس گزشتہ ہفتے کے آخر میں منعقد ہوا تاہم اس اجلاس میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی رواں سال چند افریقی راہنماﺅں نے ذاتی طور پر او آئی سی سربراہ اجلاس میں شرکت کی اور 57 رکن ممالک کے سربراہوں میں سے اکثر نے اپنے نمائندے بھیجے.