حکومت نے اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی، معیشت میں بہتری کا دعویٰ

مالیاتی نظم و نسق کے مستحکم ہونے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، تمام اقتصادی اعشاریے حوصلہ افزا ہیں، حکومتی مؤقف

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک ) وفاقی حکومت کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی، جس میں معیشت کے مختلف شعبوں میں بہتری کا دعویٰ کرتے ہوئے اعداد و شمار شائع کیے گئے۔ مارچ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق جولائی تا فروری ترسیلات زر میں 32.5 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد ان کا حجم 23.96 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، ملکی برآمدات میں 7.2 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد برآمدات کا حجم 21.82 ارب ڈالر ہو گیا، درآمدات میں 11.4 فیصد اضافے کے ساتھ ان کا حجم 38.32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 691 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا، زر مبادلہ کے ذخائر 11.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں لیکن پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی 211 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
حکومت کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ مالیاتی نظم و نسق کے مستحکم ہونے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور تمام اقتصادی اعشاریے حوصلہ افزا ہیں، ٹیکس وصولیوں میں 25.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو جولائی تا فروری 7344 ارب روپے رہی، نان ٹیکس ریونیو میں 75.8 فیصد اضافے کے بعد اس کا حجم 3763 ارب روپے ہو گیا، صنعتی شعبے میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ منفی 1.22 فیصد رہی، فروری میں مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 1.5 فیصد کم ہوئی، ماہانہ بنیادوں پر 0.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، مالیاتی خسارہ 1.7 فیصد کم ہوا، پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.8 فیصد رہا۔
ادھر ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں فنانشل سروسز کی رپورٹ جاری کر دی اور کہا ہے کہ پاکستان کی 24 کروڑ 10 لاکھ کی آبادی 60 فیصد بالغ افراد پر مشتمل ہے، ملک میں 9 کروڑ 10 لاکھ انفرادی مالیاتی اداروں کے اکاونٹس موجود ہیں، بالغ آبادی کی بڑی تعداد کو رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی حاصل نہیں، خواتین کے لئے بینکنگ سہولتوں تک رسائی مردوں کے مقابلے میں نصف ہے، پاکستان میں 21 فیصد افراد کو بینک اکاونٹ یا موبائل منی تک رسائی حاصل ہے، بہت سے لوگ مالی لین دین کیلئے غیر رسمی نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہیں۔