پانی کا معاملہ ہمارا جینا مرناہے،پانی کا مسئلہ ہماری اولین ترجیح ہے، کینالز کا معاملہ ہر فورم پر اٹھا رہے ہیں، چیئرمین پیپلز پارٹی کی صحافیوں سے گفتگو
اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ 6کینالزکے معاملے پر مربوط حکمت عملی کے ساتھ تحریک شروع کریں گے، پانی کا معاملہ ہمارا جینا مرناہے، پانی کا مسئلہ ہماری اولین ترجیح ہے،کینالز کا معاملہ ہر فورم پر اٹھا رہے ہیں،ایوان صد ر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کینالز بنانے کے معاملے پر ہم بھرپو ر انداز میں تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔
ہم نے شروع دن سے ہی اس منصوبے کی مخالفت کی ہے ۔ اس معاملے پر ہر فورم پر آواز بلند کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ ہماری اولین ترجیح ہے اس پر ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔پاکستان پیپلزپارٹی نے آنے والے وفاقی بجٹ کے حوالے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
بجٹ میں ہماری سفارشات کو حصہ بنایا جائے گا۔ حکومت کو عوام دوست اور ملازمین دوست بجٹ کے حوالے سے بہترین تجاویز دیں گے۔
سیلاب متاثرین کے فنڈز کی ادائیگی کے لئے وزیراعظم سے رابطے میں ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر حکومت کو مزید اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔دہشتگردی کا خاتمہ ہم سب نے مل کر کرنا ہے۔پارلیمانی قومی سلامتی کے بعد خود بلوچستان جا کر امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
خیال رہے کہ چند روز قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دریائے سندھ سے چھ نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کی تھی ۔سندھ کا پانی کسی کو نہیں دیں گے۔ وفاق کا نئی 6 کینالز بنانے کا منصوبہ ناقابل قبول تھا۔قرارداد کے متن کے مطابق 1991 کے معاہدے میں پانی کی تقسیم پر گارنٹی دی گئی تھی کہ چولستان سمیت کوئی کینال سندھ کی مرضی کے بغیر تعمیر نہیں ہو سکتی۔
پانی کی قلت کی وجہ سے انڈس ڈیلٹا تباہ ہو رہا تھا۔اس لئے یہ ایوان چولستان کینال سمیت 6 کینالوں کو مسترد کرتا تھا۔مرادعلی شاہ نے کہا تھاکہ سندھ کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ وفاق کا نئی چھ کینالز بنانے کا منصوبہ ناقابل قبول تھا۔ نئی نہروں کی تعمیر غیر قانونی تھی۔ سندھ حکومت عوام کے ساتھ مل کراحتجاج کرے گی۔قرارداد میںمزید یہ بھی کہا گیا تھا کہ چولستان یا کسی بھی کینال پر سندھ حکومت سے مشورہ ضروری تھا۔ایوان وفاق اور ارسا سے مطالبہ کرتا ہے کہ سندھ سے مشاورت کی جائے، وفاقی حکومت سندھ سے اس مسئلے پر مذاکرت کرے۔ 1991 کے معاہدے کے خلاف کوئی بھی تعمیرات منظور نہیں تھیں۔