37

ہماری ٹیکس وصولیاں 3380 ارب کی سطح تک پہنچ گئیں، عمران خان

اسلام آباد (جنرل رپورٹر) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی ٹیکس وصولیاں 3380 ارب کی سطح تک پہنچ گئی ہیں، یہ ٹیکس وصولیاں گزشتہ برس سے 10 فیصد زیادہ ہیں، حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی بحالی کے یہ واضح آثار ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ مارچ 21 میں 460 ارب کی وصولیوں کیساتھ 41 فیصد کی تاریخی نمو حاصل کرنے پر میں ایف بی آر کی کاوشیں سراہتا ہوں۔
جولائی2020 سے مارچ 2021 کے دوران ہماری وصولیاں 3380 ارب کی سطح تک پہنچیں جو گزشتہ برس کے اسی دورانیے سے 10 فیصد زیادہ ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں ملنے والی وسیع البنیاد معاشی بحالی کے یہ واضح آثار ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور زرمبادلہ ذخائر میں استحکام آیا ہے۔
حکومت نے ڈھائی ارب ڈالر کا بانڈ جاری کیا تھا، اس میں کامیابی ہوئی۔

سکوک بانڈ بھی جاری کریں گے لیکن فی الحال تاریخ نہیں دے سکتے۔یورو بانڈ کا ریٹ جو ہمیں ملا وہ صحیح ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے اسٹیک ہولڈرز کو انٹربینک فنڈز ٹرانسفر چارجز پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔ سبسڈی کو ٹارگٹڈ کرنے کیلئے محکموں سے بات کر رہے ہیں۔ ہم نے اسٹیٹ بینک کو خود مختار کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کو گروی رکھنے کا تاثر درست نہیں، اسٹیٹ بینک کے خودمختاری بل پر نظرثانی کریں گے، اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بل پارلیمنٹ میں لائیں گے۔
اسٹیٹ بینک کا بل عالمی پریکٹسز کو مدنظر رکھ کر لایا گیا ہے۔ پارلیمان سپریم اور خودمختار ہے۔ پارلیمان میں اس بل کو پیش کیا جائے گا۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمت پاکستان سے کم ہونے پرانڈیا سے چینی درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت سے5 لاکھ ٹن چینی درآمد کریں گے۔ نجی شعبے کو بھارت سے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔
بھارت اور پاکستان میں چینی کی فی کلو قیمت میں15 سے 20 روپے کا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی صنعتوں کیلئے بھارت سے کاٹن کی درآمد جون کے آخر تک کیلئے کھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فیصلوں کی بنیاد پاکستان اور عوام کی فلاح ہوگی۔ کبھی کبھی حکومت کو سخت فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے 50 کروڑ ڈالر کی قسط ادا کردی ہے، آئی ایم ایف سے رابطے میں ہوں، ہماری کرنسی اپنے زور پر کھڑی ہے، ڈالر نہیں جھونک رہے۔ روپے کی قدر میں بہتری کا فائدہ ایک دم نہیں ہوتا۔ گندم کی قیمت 1800 من مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیٹف سے متعلق جون تک کام مکمل کیا جائے گا۔ ارکان پارلیمنٹ سے براہ راست رابطے میں رہوں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں