30

لاپتہ افراد کیس، لوگ مایوس ہوکر پیش نہیں ہو رہے، عدالت

لاپتہ افراد کیس، لوگ مایوس ہوکر پیش نہیں ہو رہے، عدالت

سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی عدم موجودگی پر پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ پولیس افسران کچھ نہیں کرتے، لوگ مایوس ہوکر عدالتوں میں بھی اب پیش نہیں ہوتے۔

سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کسی کا بیٹا لاپتہ ہے کسی کا شوہر غائب ہے، لاپتہ افراد کے اہلخانہ سمجھتے ہیں کہ پیش ہوکر بھی کچھ نہیں ہوگا، لاپتہ افرادکے اہلخانہ کا اعتماد اٹھ جانا ہمارے لیے افسوس کا مقام ہے۔

عدالت نے لاپتہ شہری بلال اور دیگر سے متعلق رپورٹس غیر تسلی بخش قرار دے دیں اور وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے تفصیلی رپورٹس طلب کرلیں۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے حکم دیا کہ لاپتہ شہری جہاں بھی ہیں بازیاب کرکے پیش کیا جائے، کیس کی مزید سماعت 6 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں