بیلا روس پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں، جرمن وزیرِ خارجہ

اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ بیلا روس کی جانب سے مہاجرین کے معاملے کو غیر ضروری طور پر ابھارنے پر پابندیوں کا نفاذ کیا جائے۔ اس وقت بیلا روس سے جڑی پولینڈ کی سرحد پر ہزاروں مہاجرین منجمد کر دینے والی سردی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

یونان کا ترکی پر آبی راستے کے ذریعہ مہاجرین کو بھیجنے کا الزام

پولینڈ کی حکومت نے بیلا روس اور رشین فیڈریشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مہاجرین کا سہارا لے کر یورپی سلامتی کو خطرے سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پابندیوں کا ممکنہ نفاذ
جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ بیلا روس کے صدر الیکسانڈر لوکاشینکو مہاجرین کو سرحدی علاقے کی جانب روانہ کر کے منفی ہتھکنڈے استعمال کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ماس نے یہ بھی کہا مہاجرین کی موجودہ اسمگلنگ کے عمل میں جو بھی ملوث پایا گیا، اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایک مہاجر کی بیلاروس کی سرحد پر بارہ سال سے بچھڑے ہوئے والدین کی تلاش

اس کا امکان ہے کہ نئی پابندیوں کے زمرے میں مہاجرین کے اسمگلروں کے علاوہ ہوائی کمپنیاں بھی آ سکتی ہیں، جو مہاجرین کو یورپ پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے پولینڈ اور بیلا روس کی سرحد پر ہزاروں مہاجرین کے جمع ہونے کی تصاویر کو افسوس ناک اور پریشان کن قرار دیا۔

سرحد توڑنے کی کئی کوششیں
پولینڈ کے وزیر دفاع ماریوس بلاشچک نے نشریاتی ادارے پی آر ون کو بتایا کہ اب تک سرحد توڑنے کی کئی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو مہاجرین بھی پولستانی سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہوئے، انہیں روک لیا گیا۔

پولینڈ اور بیلاروس کی سرحد پر مہاجرین کا بحران

یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ابھی تک کسی بھی مہاجر کو پولینڈ میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

اس بحران پر بیلا روس اور پولینڈ کے دو طرفہ تعلقات کو کشیدگی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے اخبار بلڈ کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ جرمنی کو مہاجرین کے بحران سے پیدا صورت حال سے نمٹنے کے لیے پولینڈ کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

‘یورپ متحد رہے‘
یورپی پارلیمنٹ میں قدامت پسند یورپی پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما منفریڈ ویبر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بیلا روس میں لوکاشینکو کے ساتھیوں پر مبنی حکومت کے لیے یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

پاکستانیوں کو یورپی یونین پہنچانے والا اسمگلروں کا بڑا گروہ گرفتار

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مہاجرین کی یہ آمد معمول کی مہاجرت کا عمل نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ سن 2015 میں شام کو جنگی صورت حال کا سامنا تھا اور اس وقت لوگ اپنی جانیں بچا کر راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ہائبرڈ جنگ جیسے حالات میں یورپ کو متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے۔

یورپی یونین کا رد عمل
یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن نے ابھی دو روز قبل پیر کو پہلے سے عائد پابندیوں میں توسیع کی منظوری دی تھی۔ اب تک یونین کی جانب سے لوکاشینکو حکومت سے منسلک یا تعلق رکھنے والے ایک سو چھیاسٹھ افراد اور پندرہ اداروں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

یونین اور بیلا روس میں تناؤ اس وقت پیدا ہوا تھا، جب منسک حکومت نے رواں برس مئی میں رائن ایئر کے ایک جہاز کو ملکی فضائی حدود میں پرواز کے دوران جبری طور پر اتار کر ایک حکومت مخالف کارکن کو گرفتار کر لیا تھا۔

یورپی یونین گزشتہ برس کے صدارتی انتخابات کی مذمت بھی کر چکی ہے کیونکہ یہ عدم شفافیت کے حامل تھے۔ اس الیکشن میں ملکی الیکشن کمیشن نے لوکاشینکو کو اپوزیشن کی خاتون امیدوار سویٹلانا تسکانوسکیا کے مقابلے میں کامیاب قرار دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں