21

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

ٹھوس ثبوت نہ دینے والوں کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، شواہد مانگےکہ پیسا آف شور کمپنیوں میں کیسے گیا؟ کرپشن کا پیسہ واپس لانے کا حکم دیا جائے۔ درخواست میں مئوقف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی، درخواست میں مئوقف اختیار کیا گیا کہ ٹھوس ثبوت نہ دینے والوں کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، ایف بی آر نام آنے والوں سے شواہد مانگے کہ پیسہ آف شورکمپنیوں میں کیسے گیا؟ تفصیلات کے مطابق ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔
درخواست میں مئوقف اپنایا گیا کہ ایف بی آر کو اثاثے ظاہر نہ کرنے والے پاکستانیوں کے نا م سامنے لانے چاہئیں، پنڈورا لیکس میں جو نام ہیں ان کو سامنے لانے کے لئے ایف بی آر کو حکم دیا جائے، ایف بی آر پنڈورا لیکس میں نام آنے والوں سے شواہد مانگے کہ پیسہ باہر آف شورکمپنیوں میں کیسے گیا؟ درخواست میں وفاقی حکومت ، نیب، ایف آئی اے، ایس آر یو، ایف بی آر اورایس ای سی پی کو فریق بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹ کے مطابق کرپشن کا پیسہ واپس لانے کا حکم دیا جائے۔ یاد رہے 07 اکتوبر کو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم عمران خان سے پنڈورا لیکس میں شامل 700 پاکستانیوں کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا جس میں کہا کہ پنڈورا لیکس میں شامل افراد کے آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے طریقہ کار کی تحقیقات کی جائے۔
ایف بی آر پانامہ اور پنڈورا لیکس میں شامل افرادکے اثاثے منجمد کرے۔ پنڈورا لیکس میں شامل افراد 3 ماہ میں ایف بی آر کو اثاثوں سے متعلق مطمئن کریں، پنڈورا لیکس میں شامل افراد اگرایف بی آر کو مطمئن نہ کرسکے تو اثاثے ضبط کیے جائیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے مزید کہا کہ 2016 میں پانامہ پیپرز میں 450 پاکستانیوں کے نام آئے تھے، سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس سے متعلق پٹشنز دائر ہوئیں، ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور ایف آئی اے نے تحقیقات کیں۔
سپریم کورٹ نے چند پاکستانیوں سے متعلق نوٹس لیا گیا۔ نیوزایجنسی کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ دیکھا جائے کہ آف شوراثاثوں کیلئے فنڈز ملک یا بیرون ملک کہاں سے اور کس ذرائع سے منتقل ہوئے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے تین ماہ میں آف شور اثاثوں سے متعلق دستاویزثبوت نہ دینے والے افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرانسپیرنسی کا کہنا ہے کہ پینڈورا پیپرز میں شامل افراد اثاثوں کی تفصیل نہ دے سکیں تواقوام متحدہ کے انسداد کرپشن کنونشن کے تحت کارروائی کی جائے۔ ٹرانسپیرنسی کے مطابق اپریل 2018 میں ن لیگ دور کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو عمران خان مکمل طور پر مسترد کرتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں