بلوچستان سیاسی بحران، پارٹی انتخابات کا اعلان، جام کمال خود کو بچانے کے لیے متحرک

جام کمال نے آج 6 ناراض اراکین اسمبلی سے ملاقات کی تصدیق کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ انشاء اللہ سارے معاملات حل ہوجائیں گے

کوئٹہ (حالات نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان اپنی وزارت بچانے اور تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے متحرک ہو گئے، جام کمال متعدد ناراض اراکین کو منانے میں کامیاب ۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی نے سیاسی بحران ختم کرنے کے لیے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا اعلان کردیا جبکہ وزیراعلیٰ جام کمال خود کو بچانے کے لیے متحرک ہوئے اور انہوں نے ناراض اراکین کو منانا شروع کردیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق جام کمال کی بی اے پی کی صدارت چھوڑنے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے جلد انٹراپارٹی الیکشن کا اعلان کردیا گیا۔بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سینیٹر منظور کاکٹر نے بتایا کہ آج بی اے پی کے ضلعی آرگنائزر، ضلعی صدور اور جنرل سیکریٹریز کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

جس میں جام کمال کے استعفے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لے کر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 12 اکتوبر کو بلوچستان عوامی پارٹی کے انٹراپارٹی الیکشن منعقد ہوگا، اجلاس میں سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی جائزہ لیاگیا۔ سینیٹر منظور کاکڑ کا کہنا تھا کہ پارٹی ذمہ داران نے انٹرپارٹی الیکشن کے انعقاد کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اپنے خلاف آئندہ ہفتے پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے متحرک ہوگئے ہیں اور سیٹ بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک بار پھر اس بات کو دہراتا ہوں، بلوچستان عوامی پارٹی پاکستان کی سب سے زیادہ جمہوری جماعت ہیں، اختلافات آتےہیں مگر ہم انہیں ہمیشہ بات کر کے حل کرلیتے ہیں‘۔انہوں نے آج 6 ناراض اراکین اسمبلی سے ملاقات کی تصدیق کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ انشاء اللہ سارے معاملات حل ہوجائیں گے۔جام کمال نے الزام عائد کیا کہ ’کچھ لوگ ہمارے درمیان مزید دوریاں پیدا کرنا چاہتے تھے، جنہیں آج ناکام بنادیا ہے، وہ چاہتے تھےکہ ہم ایک دوسرے پر ردعمل ظاہرکریں، الحمدللہ ہم سب نے زبردست ذمہ داری، باہمی عزت کامظاہرہ کیا‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں