42

سینیٹ الیکشن : فیصل واوڈا کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کی استدعا مسترد

اسلام آباد (جنرل رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی سینیٹ الیکشن میں کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی رہنمائ فیصل واوڈا کی کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ، جس میں درکواست گزار کے وکیل جہانگیر جدون نے موقف اپنایا کہ جھوٹا بیان حلفی دینا بھی انتخابی کرپشن ہے اس لیے فیصل واوڈا کیس کے فیصلے تک نوٹی فیکیشن روکا جائے۔
دوران سماعت الیکشن کمیشن میں صوبہ پنجاب سے رکن الطاف قریشی نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ فیصل واوڈا نے جھوٹ بولا ہے تو ہائی کورٹ نے انہیں نا اہل کیوں نہیں کیا؟ نوٹیفیکیشن روکنے کی کوئی وجہ بھی تو بتائیں ، نوٹیفیکیشن ہو جائے تو بھی کمیشن کارروائی کر سکتا ہے۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی رہنمائ فیصل واو?ڈا کو دہری شہریت چھپانے اور جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرانے پر ا?ئین کے ا?رٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ، جس کا اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف رہنمائ فیصل واوڈا کی نااہلی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
تفصیلی فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا جو کہ 13 صفحات پر مشتمل ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ فیصل واو?ڈا نے 11 جون کو دہری شہریت نہ رکھنے کا بیانِ حلفی جمع کرایا ، انہیں امریکی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ 25 جون کو جاری ہوا ، فیصل واو?ڈا کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت وہ امریکی شہری اور الیکشن لڑنے کیلئے نا اہل تھے ، اس طرح فیصل واو?ڈا کا بیانِ حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے ، انہوں نے الیکشن کمیشن میں جو بیان حلفی جمع کرایا ، الیکشن کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کر کے مناسب حکم جاری کر سکتا ہے۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق 29 جنوری 2020ئ سے 3 مارچ 2021ئ تک فیصل واو?ڈا نے نااہلی کی درخواست پر کوئی جواب داخل نہیں کیا ، انہوں نے کبھی ایک اور کبھی دوسری وجہ سے معاملے کو طول دیا اور جواب داخل نہ کرا کے کیس میں تاخیر کی ، جواب داخل نہ کرانے پر الیکشن کمیشن سے کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق ریکارڈ طلب کیا گیا ، فیصل واو?ڈا کے وکیل نے 3 مارچ کی سماعت میں ان کا اسمبلی سے استعفیٰ پیش کیا اور کہا کہ درخواست غیر مو?ثر ہو چکی ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے اصرار کیا کہ ابھی استعفیٰ صرف پیش کیا گیا ہے ، جس کی منظوری ہونا باقی ہے، جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرانے کے الگ نتائج ہیں ، فیصل واو?ڈا ممبرِ قومی اسمبلی یا ممبر سینیٹ بننے کے اہل نہیں رہے ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں