38

مذاکرت کرنے تھے تو کالعدم کیوں قرار دیا، شاہد خاقان

مذاکرت کرنے تھے تو کالعدم کیوں قرار دیا، شاہد خاقان

مسلم لیگ نون کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ لاہور میں جو ہوا اس کے حقائق سامنے نہیں آسکے، مذاکرت کرنے تھے تو کالعدم کیوں قرار دیا، جمہوریت میں یہ عمل نہیں ہوتے۔

اسلام آبا د میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ نون شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت نے کیا وعدے کیے، کیا دعوے ہوئے کچھ پتہ نہیں۔

شاہد خاقان نے کہا کہ ایک دم قومی اسمبلی کی دو دن کی چھٹی کردی گئی، وزیر اعظم میں ہمت تھی تو پارلیمنٹ میں تقریر کرتے، دار الحکومت میں کنٹینر رکھے ہیں کس بات پر خوفزدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی سوال کر رہا ہے ،ملک میں انتشار کیوں ہے، مظاہرین کہہ رہے ہیں سفیر کو نکالنے کا وعدہ کیا گیا تھا ،یہ وعدہ کس نے کیا؟جس کی ذمہ داری ہے وہ قبول کرنے کو تیار نہیں، خلائی مخلوق زمینی مخلوق بن چکی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعظم خود کہہ رہے ہیں ذمہ دار وہ ہیں وہ کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیض آباد میں جو کچھ ہوا اس کے حقائق بڑے تلخ ہیں، سبق لینا چاہیے ،حقائق عوام کے سامنے رکھیں اس کا واحد طریقہ ٹروتھ کمیشن ہے۔

شاہد خاقان نے مزید کہا کہ وزیروں کو آگے پیچھے کرنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں