امارات میں ملازمین کو دیر سے تنخواہیں ادا کرنے والی کمپنیوں کی شامت آ گئی

دُبئی(انٹرنیشنل ڈیسک) یو اے ای میں کارکنان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بہترین قوانین رائج ہیں جن کا مقصد انہیں مالکان کے استحصال سے بچانا اور ان کی تنخواہوں وغیرہ کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔ اب امارات میں ایسی کمپنیوں کی خیر نہیں رہے گی جو اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہ ادا نہیں کرتی ہیں۔ اماراتی وزارت انسانی وسائل و اماریتائزیشن (MoHRE)نے کارکنان سے متعلق انشورنس قوانین میں اہم ترمیم کر دی ہے۔
جس کے تحت ان کمپنیوں کو اب انشورنس پر دُگنی رقم ادا کرنا ہو گی جو اپنے ملازمین کو وقت پر تنخواہیں ادا نہیں کر رہی ہیں۔ MoHRE کی جانب سے ایک ٹویٹر پیغام میں بتایا گیا ہے کہ تمام کاروباری اداروں کو پابند کر دیا گیا ہے کہ ہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں ویجز پروٹیکشن سسٹم کے ذریعے ادا کریں۔

جو کمپنیاں ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا نہیں کر رہیں ان پر بطور سزا ملازمین کی انشورنس کوریج کی رقم بڑھا کر 250 درہم کر دی گئی ہے۔

جبکہ ملازمین کی تنخواہیں باقاعدگی اور وقت پر ادا کرنے والی کمپنیوں کو بدستور 120 درہم ہی ادا کرنا ہوں گے۔ ڈیلی گلف اُردو کے مطابق2018ء میں حکومت نے نجی کمپنیوں کے ملازمین کے تحفظ کی خاطر ‘Taa-meen’ نامی انشورنس پالیسی متعارف کرائی تھی۔ اس پالیسی کے مطابق کمپنی مالک کو آپشن دی گئی تھی کہ وہ کسی شخص کو بھرتی کرنے پر بینک گارنٹی کے طور پر 3 ہزار درہم جمع کروائے گا یا پھر انشورنس پالیسی کے تحت فی ملازم 120 درہم کی رقم انشورنس کے تحت ادا کرے گا جس کی مُدت دو سال کے لیے ہو گی۔
اگر کمپنی دیوالیہ ہو جائے یا ملازمین کو تنخواہیں ادا نہ کر پائے تو متاثرہ ملازمین کو فی کس 20 ہزار درہم کی رقم بطور انشورنس دی جائے گی۔ یہ رقم اینڈ آف سروس بینیفٹس، تعطیلات الاؤنس، اوور ٹائم الاؤنس، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ایئر ٹکٹ کا بندوبست نہ کرنے پر بھی متاثرہ ملازم کو دی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ ڈیوٹی پر ملازم کے زخمی ہونے کی صورت میں بھی اس رقم کی ادائیگی کی جائے گی۔ کام سے غیر حاضر ورکرز کے لیے ٹریول ٹکٹس کی ویلیو بھی کور کی جائے گی۔اسی طرح کسی کارکن کی میت وطن واپس بھجوانے کے اخراجات بھی برداشت کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں