سویلین کیسز ملٹری کورٹ میں چلانے کیلئے آئین کی تشریح کی ضرورت ہے: عدالت

جمہوریت میں کوئی کسی کو مائنس نہیں کرسکتا، مائنس صرف ووٹر اور عوام کرسکتی ہے،9 مئی کو ہونے والے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، اگر شفاف انکوائری ہوئی ہم ثبوت پیش کریں گے۔ عمران خان کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مختلف مقدمات میں ضمانت حاصل کرنے کے لیے آج اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔چیئرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے دروازے پر گاڑی سے اتار لیا گیا۔انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بائیومیٹرک کرائیں۔عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ پیشی کے موقع پر کوئی پارٹی رہنما یا کارکن موجود نہیں ہے۔
عمران خان سخت سکیورٹی کے حصار میں کمرہ عدالت تک پہنچے۔عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین کی پارٹی میں شامل ہونے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کو گڈ لک کہتا ہوں، جمہوریت میں کوئی کسی کو مائنس نہیں کرسکتا، مائنس صرف ووٹر اور عوام کرسکتی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 9 مئی کو ہونے والے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، عمران خان نے مزید کہا کہ چار سو روپے کا پاؤنڈ ہوچکا ہے ، میری تو باہر کوئی جائیداد بھی نہیں ہے ،میں کیا کروں گا باہر جاکر، جب کہ عمران خان نے شاہ محمود قریشی کے ساتھ تلخی کی بھی تردید کر دی۔
صحافی نے سوال کیا شاہ محمود قریشی سے کیسی میٹنگ رہی؟۔عمران خان نے کہا کہ کیسی میٹنگ ہونی تھی بیچارے کو ایک مہینہ جیل میں رکھا ہے، میں باہر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا، نہ میرے پاس اربوں ڈالر پڑے ہوئے ہیں۔شاہ محمود قریشی فارمولہ لیکر آئے کہ اپنے لوگ ہم نے جیلوں سے نکالنے ہیں۔ نو مئی کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیئں۔ انڈر ایج بچوں کو بھی پکڑا ہوا ہے، شاہ محمود قریشی نے یہ فارمولا دیا کہ ظلم ہو رہا ہے ان کو باہر لانا ہے۔عمران خان نے کہا کہ جمہوریت میں مائنس نہیں ہوتا جمہوریت میں صرف پبلک مائنس کرتی ہے۔ مسائل کا حل صرف شفاف انتخابات ہیں۔