45

اتحادیوں نے لاڑکانہ میں اسٹیبلشمنٹ سے مل کر پی پی کی مخالفت کی، بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری  نے کہا ہے کہ ان کے اتحادی نے لاڑکانہ میں گھس کر اسٹیبلشمنٹ سے مل کر پیپلز پارٹی کی مخالفت کی لیکن انہوں نے برداشت کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس کے باوجود پیپلز پارٹی آزادی مارچ کا ساتھ دیتی ہے اور جے یو آئی کو پی ڈی ایم کا سربراہ مانتی ہے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ ن لیگ جے یو آئی ف اور پی ڈی ایم کو تجویز دیں گے کہ آرام سے سوچ سمجھ کر فیصلے کريں۔

انہوں نے کہا کہ مریم شریف صاحبہ کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات رہے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ سوالات کی وجہ سے کوئی ایشو پیدا ہو۔

بلاول بھٹو زرداری نے براڈشیٹ کمیشن کی رپورٹ بھی مسترد کردی۔

انہوں نے  کہا کہ تیس سال سے سوئس کیسز کا سنتے آرہے  ہیں، آخر کتنی بار یہ لوگ ایک کیس کو ہارنا چاہتے ہیں، آصف زرداری سوئس کیس میں بری ہوچکے ہیں۔

بلاول بھٹو  نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، جب کوئی مسئلہ ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بنادیتے ہیں۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ دنیا کے قانون کے مطابق نیب پکڑا گیا ہے، نیب کو سزا ملی ہے 60 ملین ڈالر کا براڈ شیٹ کیس میں نقصان ہوا، حساب کون دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں