62

سندھ کے مختلف اضلاع میں بچے خسرہ کا شکار

صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد، ٹھل، گڑھی یاسین میں کئی بچے خسرہ کا شکار ہوگئے، محکمہ صحت سندھ نے ایک ٹیم متعلقہ علاقوں میں روانہ کردی ہے تاکہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے۔

متعلقہ حکام کے مطابق ٹیم میں عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور ای پی آئی کے حکام شامل ہیں، قومی ادارہ امراض اطفال میں رواں ماہ خسرہ میں مبتلا 75 بچے لائے گئے۔

ادارے کے سربراہ ڈاکٹر جمال رضا نے کہا کہ تین ماہ میں 160 سے زائد بچے اسپتال لائے گئے ہیں اور ان بچوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خسرہ جان لیوا اور کورونا سے زیادہ خطرناک بیماری ہے۔

ڈاکٹر جمال رضا نے بتایا کہ کورونا کے باعث لوگوں نے اپنے بچوں کو حفاظی ٹیکےنہیں لگوائے۔ اسپتال میں صرف دس فیصد کیسز آرہے ہیں اور نو ماہ سے 15 ماہ میں بڑی تعداد میں بچوں کوخسرے کے ٹیکےنہیں لگ سکے۔

انہوں نے کہا کہ خسرہ کی علامات میں بخار، نزلہ اور جسم پر سرخ دھبے شامل ہیں، اس بیماری کے باعث بچوں میں قوت مدافعت میں کمی ہوجاتی ہے۔

ڈاکٹرجمال رضا کا کہنا ہے کہ خسرہ سے بچاؤ کا واحد حل صرف خسرہ کا ٹیکہ ہی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں