کشمیرپر”ظلم کے 1279دن” اور عالمی برادری….. !

غیر قانونی بھارتی قبضے کے تحت مصائب برداشت کرنے کے باوجود کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے مطالبے پر قائم ہیں۔ پاکستان ظلم و جبر سے آزادی کے حق پر مبنی جدوجہد میں کشمیری عوام کے ساتھ کھل کرکھڑے ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کی ضمانتوں کے باوجود بھارت نے 76 سال گزرنے کے باوجود کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری نہیں کروائی جو کہ عالمی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔کشمیری عوام حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں منظم ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ جبکہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی ہے۔

پاکستان کا عالمی برادری سے یہی مطالبہ ہے کہ وہ بھارتی ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو اور کشمیری عوام سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کرے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کو ختم کرنے اور خطے میں امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی آزادی دی جائے جیسا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں ضمانت دی گئی ہے جسے بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے ماننے سے انکاری ہے۔ بین الاقوامی برادری بالخصوص مغرب کو اپنے معاشی مفادات سے بالا تر ہو کر بھارتی حکومت پر دباؤڈالنا چاہیے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے اپنی غیر قانونی افواج کو نکالے اور لوگوں کو ان کا حق خود ارادیت دے تاکہ کشمیری عوام بھی دنیا میں ایک آزاد قوم کے طور پر ابھریں اور اپنے شہری حقوق استعمال کر سکیں جو بھارت نے غاضبانہ طریقے سے دبا رکھے ہیں۔ کشمیر جسے ہم جنت نظیر کہتے ہیں جسے ہم اپنا اٹوٹ انگ کہتے ہیں شہ رگ کہتے ہیں۔ ہماری شہ رگ کو کوئی چھو لے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے اگر کوئی اس پر ذرا بھی وار کرے تو ہم سامنے والے کو مٹانے پر تل جاتے ہیں اور یہ کیسے حکمران ہیں جو دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی شہہ رگ کو بھارت درندوں کی طرح نوچ رہا ہے اس پر بار بار ضرب لگا رہا ہے اور ہم خاموش ہیں۔ کشمیر میں موجود ہم اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ کیا صرف یہ کہنا کافی ہے اس سے بھارت کشمیر کو آزاد کر دے گا کہ ہم کشمیر کیلئے کسی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ صرف باتیں ہیں بھارت نے370اور35Aبل پاس کیا ہے جس کی منسوخی سے بھارتی عام شہری،بھارتی کارپوریشنزاوردیگرنجی سرکاری کمپنیاں جائیداد نہیں خریدسکتیں نہ بلاقانونی جواز کے جائیدادحاصل کرسکتی ہیں جس کی وجہ سے اراضی پرقبضہ اوراکثریت کواقلیت میں بدلنے کاخدشہ کسی قدرکم تھا۔ مگر بھارت نے یہ غلیظ حرکت اس لیے کی کہ کشمیر کی زمینوں، جائیدادوں پر بھی قبضہ جما لیں۔ یہ سب ہونے کے باوجود بھی ہم صرف بیانات اور بڑھکیں ماررہے ہیں کچھ عملی اقدامات نہیں کیے۔

بھارت روزانہ پاکستان کے بارڈر پر حملہ کرتا ہے اور عام شہریوں سمیت فوجیوں کی لاشیں ان کے گھر والوں کو ملتی ہیں جبکہ یہ بیان بھی ساتھ میں ملتا ہے کہ بھارت کو منہ توڑ جواب اور بھارتی توپیں خاموش۔ ہمیں ایسے بیانات سے کیا۔ ہمارے فوجی روز مرتے ہیں شہری مرتے ہیں۔ بھارتی توپیں خاموش ہو نے سے ہمارے وہ فوجی واپس تو نہیں آجاتے وہ شہری واپس نہیں آجاتے۔ اس سب کیوجہ یہی ہے کہ ہم کوئی مضبوط فیصلہ نہیں لے پاتے ورنہ بھارت پاکستان میں اور کشمیر میں یوں درندگی کرنے کی جراٗت نہ کرتا۔ بھارت نے370 اور35Aبل پاس کیا ہے۔ ا س شق کوختم کرکے کشمیرکی خصوصی حیثیت الگ پرچم اورآئین کااختیارغصب کیاگیا ہے جس کی وجہ سے بھارتی شہری کشمیری شہریت اور جائیدادیں بناکرآسانی سے کشمیرپرقبضہ کرسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی آفیشل ویب سائٹ پراجلاس کے متعلق بیان ہے کہ کشمیرکامسئلہ 1965کے بعدپہلی بار زیربحث آیا ہے جس سے لگ رہاتھاکہ کشمیرپریاتوجنگ چھڑے گی یاپھرکشمیراقوام متحدہ کی وجہ سے آزادہوگامگرمسئلہ حل ہونے کانام ہی نہیں لے رہا۔ اس ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے کئی نہتے کشمیری شہیدکیے جاچکے ہیں اوروہاں کی بیٹیوں پر جو ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری ہے۔کشمیر کی ایک بیٹی رابعہ نے ایک بھارتی پولیس آفیسر سے درخواست کی کہ اسے جانے دیا جائے اسکی دو سال کی بچی بھوکی ہوگی اسے دودھ دینا ہے تو اس قصائی کے بچے نے کہا کہ ” پریشان مت ہو اگر تمہاری بیٹی مر گئی تو اس کی لاش یہاں لے آئیں گے۔ اسی طرح ایک اور بیٹی ثریا کو صرف اس لیے جیل میں بند کر دیا گیا کہ اس نے اپنے بہنوئی سے ملاقات کی خواہش کی تھی اور یہ اس کا جرم بن گیا۔اگر ایک ایک جرم گنوایا جائے تو ہزاروں کتابیں چھپ جائیں اور ان بھارتی درندوں کے گناہ پھر بھی ختم نہ ہوں۔ کشمیر میں یہ بھارتی بھیڑئیے آئے روز کشمیری بہنوں بیٹیوں کی عزتوں سے کھیلتے ہیں۔ حتی کہ بچیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بناتے ہیں کئی واقعات میں تواپنے جرم چھپانے کیلئے انہیں زندہ یا نیم بے ہوشی کی حالت میں جلا کر جنگلوں میں پھینک دیتے ہیں۔ ایسے ہزاروں واقعات ہیں مگر میں ہر ایک واقعہ کو کیسے تحریر کروں کیونکہ یہ تحریر بھی ان کے دکھوں کا مداوا نہیں ہو سکتی۔ یہ بیٹیاں آج کسی محمد بن قاسم کا انتظار کررہے ہیں اور ہم خود کو محمد بن قاسم کے وارث سمجھتے ہیں۔

ہمیں خود سے پوچھنا ہو گا کہ کیا واقعی ہم محمد بن قاسم کے وارث ہیں۔ایک کشمیر کی بیٹی نے بتایا کہ آپ ایسا سمجھیں کہ کشمیر ایک قبرستان اور ہماری حالت مردہ جیسی ہے میرا بیمار باپ ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ انہیں دوائی ملی یا نہیں،سولہ دن سے والدین سے بات نہیں ہوئی پتہ نہیں وہ زندہ بھی ہیں یانہیں۔میرے گھر میں جوان بہنیں ہیں معلوم نہیں وہ محفوظ بھی ہیں یا نہیں۔ تمام کمیونیکیشن، تمام راستے بند ہیں۔ کشمیر بھارت سے بھرا پڑا ہے باہر کشمیری کم اور بھارتی زیادہ نظر آتے ہیں۔ مودی نے کشمیر کو مردہ گھر بنا دیا ہے۔ کشمیریوں کو جانوروں سے بھی بد تر سمجھا جا رہا ہے۔ بھارتی درندے گدھ کی طرح ہر جگہ منڈلا رہے ہیں۔ ہم بے یارومددگار ہیں۔یہ الفاظ کشمیر کی ایک بیٹی کے ہیں جو ہمارے ضمیروں کو جھنجھوڑ نہیں پائے اور ہم آج بھی سکون سے سوتے ہیں۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہو گا کہ بھارتیوں اور خود میں کیا فرق ہے وہ بھی تماشہ دیکھ رہے ہیں ہم بھی۔حریت قیادت اور آزادی پسند کشمیری گرفتار ہو چکے ہیں بھارتی جیلیں کشمیریوں سے بھر چکی ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے بھی ہندوستان کے خلاف رپورٹس دے چکے ہیں کہ کشمیر میں کچھ بھی اچھا نہیں عالمی میڈیا کی چیخ و پکار اور پاکستانی قوم کا واویلا بھی کشمیریوں کے دکھ کا مدوا نہیں کر سکا۔ہم رائٹرز ایسی تحریری لکھتے ہیں اورہمارے آنسو گرتے رہتے ہیں اورہم مظاہروں اورتحریروں کے ذریعے چیختے رہتے ہیں مگرعالمی برادری کے کانوں پرناہماری آہ پہنچتی ہے اورنہ ہی کشمیری بے قصوروں کی قیدوبندمیں سسکیاں معنی رکھتی ہیں مگرپھربھی ایک امیدہے کہ ایک دن آئے گا جب کشمیرآزادہوگااورہرچہرے پرمسکان سجی ہوگی۔

کالم نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں-