46

امارات میں پاکستانی ڈرائیور کو قانون کی پاس داری پر اعلیٰ اعزازسے نوازا گیا

شارجہ(میڈیا رپورٹ) امارات میں ٹرانسپورٹ کا انتہائی بہترین اور جدید ترین نظام نافذہے۔ اسی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی گنتی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے زیر انتظام ٹیکسیوں میں سفر کرتی ہے۔ یو اے ای میں ٹیکسی چلانے والے ڈرائیورز میں پاکستانیوں کی گنتی بہت زیادہ ہے۔ جن کی محنت اور فرض شناسی کے سبھی قائل ہیں۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کے پاکستانی ڈرائیورز بھی بہت محنتی اور قانون پسند ہیں۔
ایک اور پاکستانی نوجوان قانون کی پاسداری پر خلیجی اخبارات کی زینت بن گیا ہے۔ جسے شارجہ پولیس نے اعلیٰ اعزاز سے نواز دیا ہے۔ جس پر پاکستانی کمیونٹی کا سر فخر سے اونچا ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شارجہ پولیس نے ایک پاکستانی شہری ظفر اللہ خان کو ایک اعزازی سندسے نوازاہے کیونکہ اس نے ایک ڈرائیورکے پاس گاڑی کے دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے اس کی خراب گاڑی کو Tow (اپنی گاڑی سے دوسری گاڑی کو رسی کی مدد سے کھینچنا) کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
امارات کے ٹریفک قانون کے مطابق اگر کسی خراب گاڑی کے ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس اور متعلقہ کاغذات نہ ہوں تو اس کی گاڑی کو Tow کرنا خلاف قانون سمجھا جاتا ہے۔ قانون کی اس پاسداری پر شارجہ پولیس کے اعلیٰ عہدے دار کرنل ڈاکٹر علی الکئی الحمودی نے ظفر اللہ کو اپنے آفس میں ب ±لا کر تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا اور کہا کہ ظفر اللہ خان جیسے افراد کی قانون پسندی باقی لوگوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل ایک پاکستانی ڈرائیور نے ایک مسافر کی جانب سے ٹیکسی میں ہی بھ ±ول جانے والی 9 لاکھ درہم (پاکستانی کرنسی میں تقریباً 3 کروڑ ستر لاکھ روپے) کی رقم سے بھرا بیگ پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ کریم ٹیکسی چلانے والے پاکستانی محمد عرفان ولد محمد رفیق کی اس ایمانداری اور فرض شناسی پر مقامی میڈیامیں بھی اس کی خوب تعریف ہو رہی ہے۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک اور پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے لاکھوں درہم کی بڑی رقم مالک تک پہنچانے کے لیے پولیس کو حوالے کردی۔ محمد عرفان کی اس ایمانداری نے رقم بھول جانے والے مسافر کے ساتھ ساتھ د ±بئی پولیس کے اعلیٰ حکام کے بھی دل جیت لیے ہیں۔ محمد عرفان کی ٹیکسی میں ایک مسافر سوار ہوا، جو کچھ دیر بعد اپنی منزل آنے پر ا ±تر گیا۔
کچھ وقت کے بعد اچانک محمد عرفان کی نظر پچھلی سیٹ پر رکھے اس بیگ پر پڑی تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ تھوڑی دیر پہلے گاڑی میں سوار شخص کا ہو گا۔مسافر کی شناخت کی خاطر اس نے بیگ کھول کردیکھا تو اس میں اماراتی کرنسی میں بہت بڑی رقم موجود تھی۔ تاہم محمد عرفان نے ایمانداری کی راہ پر چلتے ہوئے فیصلہ کیا کہ وہ یہ رقم اصل مالک تک پہنچا دے گا۔ وہ فوری طور پر ب ±ر د ±بئی پولیس اسٹیشن چلا گیا اور بیگ سے بھرا رقم پولیس عملے کے حوالے کر دیا۔
پولیس نے مسافر کا پتا چلا کر رقم اس کے حوالے کر دی۔ جس نے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کا بے حد شکریہ ادا کیا۔دوسری جانب ب ±ر د ±بئی پولیس اسٹیشن کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر عبداللہ خادم سرور نے محمد عرفان کی اس ایمانداری کے صلے میں اسے تعریفی سند سے نواز دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں