50

سشانت سنگھ سے شادی اور محبت کے چکر میں خود کو برباد کیا، انکتا لوکھنڈے کے انٹرویو میں حیرت انگیز انکشافات

ممبئی (این این آئی)جون 2020 میں بظاہر ڈیریشن کے باعث 34 سال کی عمر میں خودکشی کرنے والے بولی وڈ اداکار سشانت سنگھ کی سابق گرل فرینڈ انکتا لوکھنڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی قربانیوں نے ہی سشانت کو ایک کامیاب اداکار بنایا۔میڈیار پورٹ کے مطابق سشانت سنگھ نے 14 جون 2020 کو خودکشی کرلی تھی اور ان کیخودکشی کی خبر نے بولی وڈ اور بھارت میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ابتدائی طور پر انکتا لوکھنڈے اور ریا چکربورتی سمیت سشانت سنگھ کی دیگر گرل فرینڈز کو ان کی خودکشی کا سبب قرار دیا گیا اور بعد ازاں اداکار

کی خودکشی کی تفتیش پولیس اور سی بی آئی نے بھی کی مگر تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔کئی لوگوں نے سشانت سنگھ کی خودکشی کے بعد ان کی سابق گرل فرینڈز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اداکارہ انکتا لوکھنڈے بھی ان کی سابق گرل فرینڈ ہیں، جن سے سشانت سنگھ کے ڈھائی سال تک تعلقات تھے۔سابق بوائے فرینڈ کی خودکشی کے بعد خود پر ہونے والی تنقید پر پہلی بار انکتا لوکھنڈے نے کھل کر بات کی اور کئی انکشافات بھی کیے اور بتایا کہ کس طرح انہوں نے سشانت کی محبت کی خاطر بڑی بڑی فلموں کی پیش کش ٹھکرادی۔بولی وڈ ببل کو دئیے گئے انٹرویو میں انکتا لوکھنڈے نے انکشاف کیا کہ انہیں کم از کم 2 بار فلموں میں کام کے بدلے جنسی تعلقات کی پیش کش بھی کی گئی تاہم انہوں نے ایسے کام سے ہی منع کردیا، جس کو حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنے آپ کو نیچے کرنا پڑے۔اداکارہ نے بتایا کہ پہلی بار انہیں 19 یا 20 برس کی عمر میں جنوبی ہندوستان کے ایک فلم ساز نے پیش کش کی ، دوسری بار ایک اداکار نے مبہم انداز میں انہیں پیش کش کی مگر دونوں کو انہوں نے نظر انداز کیا اور آگے بڑھیں۔انہوں نے بتایا کہ کس طرح سشانت سنگھ کی خودکشی کے بعد لوگوں نے انہیں بھی اداکار کی موت کا ذمہ دار قرار دیا۔انکتا لوکھنڈے نے بتایا کہ جب سشانت نے خودکشی کی اور انہوں نے ان کی کوئی تصویر شیئر نہیں کی تو لوگوں نے ان پر تنقید کی اور پوچھا کہ آخر کیوں ان کی تصویر شیئر کرکے دکھ کا اظہار نہیں کیا؟اداکارہ نے بتایاکہ جس طرح کوئی بھی شخص اپنے کسی اہل خانہ یا انتہائی قریبی شخص کے مرنے پر ان کی تصویر شیئر کرکے یہ نہیں بتانا چاہتا کہ وہ تنہا ہوگئے، اسی طرح انہوں نے بھی سشانت کی تصویر شیئر نہیں کی اور آج تک انہوں نے ان کی تصویر شیئر نہیں کی۔انکتا لوکھنڈے نے بتایا کہ سشانت سنگھ کی خودکشی کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر سختتنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بزرگ خواتین نے بھی ان کی پوسٹس پر آکر انہیں ’جسم فروش عورت‘ کے طور پر لکھا۔اداکارہ نے بتایا کہ وہ سشانت سنگھ کے ساتھ ڈھائی سال تعلقات میں رہی تھیں اور وہ ان سے شادی کرنے کی خواہش میں کئی فلموں کو ٹھکرا چکی تھیں۔اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ سنجے لیلا بھنسالی نے انہیں باجی رائو مستانیاور رام لیلا جیسی فلموں میں کام کرنے کی پیش کش کی مگر انہوں نے یہ بتا کر انکار کیا کہ انہیں شادی کرنی ہے۔انکتا لوکھنڈے نے دعویٰ کیا کہ انہیں شاہ رخ خان اور فرح خان کی جانب سے ’ہیپی نیو ایئر‘ فلم میں بھی کام کی کش پش ہوئی مگر انہوں نے سب آفرز سشانت سنگھ کی محبت میں ٹھکرائیں۔انکتا لوکھنڈے نے اس بات پر اطمینانکا اظہار کیا کہ انہوں نے محبت میں قربانیاں دے کر سشانت سنگھ کو کامیاب اور اچھا اداکار بنایا اور انہیں ان کی محبت میں ڈھائی سال برباد کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔اداکارہ نے کہا کہ جن لوگوں نے انہیں سشانت سنگھ کی خودکشی پر تنقید کا نشانہ بنایا وہ لوگ اس وقت کہاں تھے جب سشانت سنگھ سے ان کے اختلافات ہوئے تھے اور وہالگ ہو رہے تھے؟انکتا لوکھنڈے نے پوچھا کہ سشانت کی خودکشی کے بعد ان پر تنقید کرنے والے لوگ اس وقت سامنے آتے اور سشانت کو سمجھاتے جب وہ انہیں چھوڑ کر جا رہے تھے۔اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ سشانت سنگھ سے تعلقات ختم ہونے کے بعد ہی انہوں نے فلمی کیریئر شروع کیا اور انہیں اس بات پر کوئی پچھتاوا نہیں کہ انہوںنے محبت کی خاطر اپنا کیریئر برباد کیا۔اداکارہ نے نوجوان لڑکیوں کو تجویز دی کہ وہ محبت ضرور کریں مگر محبت، کیریئر اور خاندان کو ایک طرح نہ دیکھیں، وہ ہر چیز کو الگ الگ طریقے سے آگے بڑھائیں۔اداکارہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے اور سشانت سنگھ کے درمیان آخر کس بات پر اختلافات ہوئے کہ ان دونوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ دیا؟

موضوعات:

ہمیں رک کر سوچنا ہو گا

ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھتے ہیں‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے جنرل سیکرٹری ہیں‘ یہ 2013ءمیں ن لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے‘ شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں مواصلات کے وفاقی وزیر رہے اور 2018ءمیں پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہو گئے۔حافظ عبدالکریم نے 11مارچ کو ….مزید پڑھئے‎

ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھتے ہیں‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے جنرل سیکرٹری ہیں‘ یہ 2013ءمیں ن لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے‘ شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں مواصلات کے وفاقی وزیر رہے اور 2018ءمیں پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہو گئے۔حافظ عبدالکریم نے 11مارچ کو ….مزید پڑھئے‎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں