5

پولیس اہلکار کے قاتل کے فرار میں ایف آئی اے کی نااہلی سامنے آگئی

امیگریشن حکام کو ملزم کی تفصیلات پہلے ہی مل چکی تھیں، ملزم 3 گھنٹے ائیرپورٹ پر موجود تھا

کراچی ( کرائم ڈیسک ) پولیس اہلکار کے قاتل کے فرار میں ایف آئی اے کی نااہلی سامنے آگئی۔ امیگریشن حکام کو ملزم کی تفصیلات پہلے ہی مل چکی تھیں، ملزم 3 گھنٹے ائیرپورٹ پر موجود تھا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی ڈیفنس میں پولیس اہلکار کو قتل کرنے والے خرم نثار کے پاکستان سے فرار ہونے میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی نااہلی بھی سامنے آگئی۔
خرم نثار نے پاکستان سے فرار ہوتے وقت سوئیڈن کا پاسپورٹ استعمال کیا جس پر اس کی پاکستان انٹری کی مہر نہیں تھی اور خرم کے پاکستان میں داخلے کی مہر اس کے پاکستانی پاسپورٹ پر لگی تھی۔ پولیس نے بھی امیگریشن حکام کو ملزم کی تفصیلات صبح ساڑھے چار بجے دیں۔ ملزم نے بورڈنگ چار بجکر 11 منٹ پر کرالی، پرواز ایک گھنٹہ لیٹ ہوئی، ملزم تین گھنٹے تک ائیرپورٹ پر موجود تھا، اس کے باوجود اسے روکا نہیں گیا۔
ملزم کی مدد کرنے پر پولیس نے ملزم کے برادر نسبتی عامر اور ملازم کو گرفتار کر لیا۔ واضح رہےکہ گزشتہ دنوں ملزم خرم نثار نے ڈیفنس فیز5 میں پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا جس کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جبکہ واقعے کے بعد ملزم خرم نثار بذریعہ ترکی سوئیڈن روانہ ہوگیا تھا۔ واضح رہے کہ پولیس حکام نے ڈیفنس میں قتل ہونے والے اہلکار کے قاتل کی گرفتاری کیلئے انٹرپول اورسوئیڈن سے رابطے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ مفرورملزم کی گرفتاری کے لیے ایف آئی اے، انٹرپول اورسوئیڈش ایمبیسی سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،دوسری جانب پولیس نے ملزم خرم نثار کےڈرائیوراوربرادرنسبتی کوحراست میں لیکر شامل تفتیش کرلیاہے۔ پیرکی شب کلفٹن تھانے کےعلاقے ڈیفنس فیز5 میں کارسوارسابق ڈپٹی کمشنر نثاراحمد کے بیٹے خرم نثارنےفائرنگ کرکے شاہین فورس کے اہلکارعبدالرحمان کوقتل کرکے موقع پرسے فرارہوگیا تھا۔
واقعے کے تھوڑٰدیربعد ہی ملزم خرم نثارکراچی ایئرپورٹ پہنچا اورملزم نے کچھ گھنٹے ایئرپورٹ پرگزارے اورمنگل کی صبح غیرملکی ایئرلائن کے ذریعے استنبول روانہ ہوگیا، ملزم کے فرار ہونے کےواقعے نے محکمہ پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ پولیس کےزیرحراست ملزم کےبرادرنسبت عامر کا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا جس کے مطابق ملزم خرم نثار واردات کے بعد عامر سے ملنے ہوٹل آیا اور کہا کہ آج ہی ملک سے باہر جانا ہے، ملزم کی پہلے بھی دشمنی تھی میں سمجھا وہی معاملہ ہوا ہوگا۔
ملزم خرم نے گاڑی میں بتایا کہ لڑائی ہوگئی ہے اس لیے ملک سے باہرجانا ہے خرم نثار نے پہلے سے ٹکٹ نہیں کرائی تھی ایئرپورٹ پر میری اہلیہ بھی ساتھ گئی تھی اسے دبئی جانا تھا۔ ادھر پولیس ذرائع نے بتایا کہ مفرور ملزم خرم نثارکے ہاتھوں قتل ہونے والے شاہین فورس کے اہلکارکا واقعے کے روزخیابان بادبان پرڈیوٹی کا پہلا دن تھا، شاہین فورس کے اہلکاروں کوخیابان بادبان سے قبل خیابان تنظیم پرتعینات کیا گیا تھاشاہین فورس کے اہلکاراپنی ڈیوٹی کی جگہ چھوڑ کردوبارہ خیابان تنظیم پرواپس چلے گئے۔
پولیس کو واردات کے وقت وقوعہ سے گزرنے والےعینی شاہدین کی تلاش ہےمقتول سپاہی عبدالرحمان کے ساتھی امین الحق کے بیانات میں باربارتضاد آرہا ہےجبکہ گاڑی میں لڑکی کی موجودگی کے شواہد بھی نہیں ملے ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے پولیس اہلکار کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی ساؤتھ اسد رضا کی سربراہی میں قائم تفتیشی ٹیم کو خصوصی ٹاسک دیا ہے کہ ان ملزمان کو بھی گرفتار کریں جنھوں نے ملزم کوفرار کروانے میں مدد فراہم کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں