136

کرپشن ثابت ہونے پر سرکاری افسر کو 10 سال قید اور ساڑھے 6 کروڑ روپے جرمانے کی سزا

لاہور (بیورو رپورٹ) احتساب عدالت لاہور نے کرپشن ثابت ہونے پر سرکاری افسر کو 10 سال قید اور 6 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت لاہور نے نیب کی طرف سے دائر کردہ ایک ریفرنس پر فیصلہ سناتے ہوئے کسٹم افسر مجرم افتخار احمد کو کرپشن ثابت ہونے پر 10 سال کی سزا اور ساڑھے 6 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنادی گئی ، عدالت نے کرپشن سے بنائے تمام اثاثہ جات بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری کردیے اور اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو مجرم کے تمام موجودہ اثاثہ جات کو بھی ضبط کر لیا جائے گا ، عدالت نے مجرم افتخار احمد کو فوری طور پر سینٹرل جیل لاہور منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
بتایا گیا ہے کہ احتساب عدالت لاہور نے مجرم کو 10 سال کے لیے کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا ، اس کے علاوہ مجرم افتخار احمد 10 سال کے لیے کسی بھی سرکاری اور نیم سرکاری بینک سے قرض یا لین دین کے لیے بھی نااہل ہو گا۔
علاوہ ازیں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بڑی مچھلیوں کے خلاف میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی اربوں روپے کی رقوم برا?مد کی جائے گی ، جس کے لیے تمام تحقیقات کو میرٹ ، شفافیت ، ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر مکمل کیا جائے گا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ر گیلپ سروے کی رپورٹ کے مطابق 59 فیصد لوگوں نے نیب پر اعتماد ظاہر کیا ہے جب کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان ، عالمی اقتصادی فورم ، پلڈاٹ اور مشال نے بھی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نیب کی کاوشوں کو سراہا ہے ، جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے متعلقہ ڈی جیز کو میگا کرپشن کیساتھ ساتھ غیر قانونی ہاو ¿سنگ سوسائٹیوں کے کیسز کی تازہ ترین رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں