51

اگلی نصف صدی کے لیے اہم ترین سعودی ترجیح چینی انرجی سکیورٹی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) خلیج کی قدامت پسند بادشاہت سعودی عرب دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے اور چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک اور اقتصادی طور پر دوسری سب سے بڑی طاقت، جس کی توانائی کی ضرورت میں گزشتہ عشروں کے دوران کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
چین اپنے ہاں توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے بیرون ملک سے درآمدی ذرائع پر جتنا انحصار کرتا ہے، ان میں سعودی عرب کی پوزیشن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے موجودہ دور میں بھی سعودی عرب ہی چین کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
حوثیوں کا جدہ میں ارامکو تیل تنصیب پر میزائل حملہ
چین کو اس کی انرجی سکیورٹی کی ضمانت
اس تناظر میں چین کے ساتھ اپنی تجارت میں سعودی عرب کی خواہش ہے کہ وہ بیجنگ کو یقین دلائے کہ توانائی کے معاملے میں مہینوں اور سالوں تک نہیں بلکہ عشروں تک چین سعودی عرب پر بھرپور انحصار کر سکتا ہے۔
مزید یہ کہ سعودی عرب اپنے ہاں توانائی کے بے تحاشا قدرتی وسائل کے حوالے سے چین کو توانائی کے شعبے میں اس کی سلامتی سے متعلق ہر طرح کی ضمانت دینے پر بھی تیار ہے۔
عرب تیل کی طاقت اور عالمی منڈی کے عروج و زوال کا مرکزی کردار کون تھا؟
حوثی باغیوں کا سعودی عرب کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ
بیجنگ سے اتوار اکیس مارچ کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسی پس منظر میں سعودی عرب کی سب سے بڑی سرکاری تیل کمپنی سعودی ارامکو کے سربراہ امین ناصر نے آج چائنہ ڈویلپمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”چین کی انرجی سکیورٹی اگلے پچاس برسوں کے دوران سعودی عرب کی اعلیٰ ترین ترجیحات میں شامل رہے گی۔
یہی نہیں بلکہ یہ اعلیٰ ترین ترجیحی سعودی سوچ اگلی نصف صدی کے بعد بھی ریاض حکومت او سعودی ارامکو کی پالیسی کا حصہ ہو گی۔‘‘
وبا کے باوجود سپلائی زیادہ
سعودی ارامکو کے سربراہ نے بیجنگ میں اس فورم سے اپنے ویڈیو خطاب میں جو کچھ کہا اس کی وجہ کیا تھی اور اپنی بہت بڑی داخلی منڈی اور ایک عالمی ا قتصادی طاقت ہونے کی وجہ سے چین سعودی عرب کے لیے ناگزیر کاروباری پارٹنر ملک کیوں ہے، اس کا اندازہ صرف جنوری اور فروری میں ہی چین کو سعودی تیل کی فراہمی کے اعداد و شمار سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔
’بحرین کے اہم ترین فیصلے ریاض میں ہوتے ہیں‘
چین کے کسٹمز ڈیٹا کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باوجود موجودہ سہ ماہی کے پہلے دو ماہ کے دوران چین کو توانائی کے سعودی وسائل کی برآمد میں واضح اضافہ ہوا اور چین نے سعودی عرب سے روزانہ تقریباﹰ 1.86 ملین بیرل تیل درآمد کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں