62

کورونا کی تیسری لہر میں شدت آنے کے باوجود ملک میں مکمل لاک ڈاون نافذ نہیں ہوگا

اسلام آباد (جنرل رپورٹر) وفاقی وزیر اسد عمر کے مطابق کورونا کی تیسری لہر میں شدت آنے کے باوجود ملک میں مکمل لاک ڈاون نافذ نہیں ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں مکمل لاک ڈاون نافذ کر دیے جانے کی قیاس آرائیوں کے حوالے سے وضاحت کی۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا ہے کہ ملک کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات پہلے بھی ثابت ہو چکی کہ مکمل لاک ڈاون مسئلے کا حل نہیں ہے اس لیے مکمل لاک ڈاون نافذ نہیں ہوگا۔ اسد عمر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر پر قابو پانے کیلئے ایس او پیز پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ جو کورونا پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان پر عملدرآمد کروانے کیلئے سختیاں کرنے کی ضرورت ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر بنیادی طور پر برطانیہ سے ا?ئے وائرس کے باعث ہے، یہ وائرس زیادہ آسانی سے پھیلاتاہے، اس قسم کاوائرس ایک شخص کوہوتوپورے خاندان کوہوجاتاہے اور پہلے سے متاثرہ شخص کودوسری باربھی کوروناہوسکتا ہے۔سربراہ این سی او سی نے کہا کہ صبح بھی این سی اوسی سے متعلق اجلاس ہوا، جنوبی افریقہ اوربرازیل سے مسافروں کی ا?مد پر پابندی لگا رہے ہیں، جنوبی افریقہ اوربرازیل سے ا?یا کورونا بھی بہت خطرناک ہے۔
انہوں نے کہاکہ کورونا کی قسم کا جینوم سیکوئنسنگ سے ہی پتہ چلتاہے، اس وقت ہمارے ہاں 50 فیصد کورونا وائرس برطانوی قسم کا ہے، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ ویکسین مو ¿ثر ہے، ویکسین کے 2 ڈوز لگنے کے بعد ہی خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ وزیراعظم میں کورونا کی تشخیص کے حوالے سے اسد عمر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ عمران خان کوویکسین لگنے سے پہلے انفیکشن ہوچکا تھا اور 10 دن کے لگ بھگ قرنطینہ کاعرصہ ہوتا ہے، جو لوگ 2 سے 3 دن رابطے میں رہے، ان کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
وزیراعظم اس سے صحت یاب ہوں گے ، پھر دوبارہ ویکسی نیشن کا فیصلہ ہوگا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہاکہ شفقت محمود سے تعلیمی اداروں کے حوالے سے بات ہوئی، برطانوی قسم کا کورونا کم عمر کے بچوں میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، جون سے بہت کم عرصے میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلا ہے، لوگ بد قسمتی سے احتیاط نہیں کررہے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ کوروناصورتحال کے مدنظر وزیراعظم نے جلسے نہ کرنے کا فیصلہ کیا، میڈیابھی کورونا سے بچنے کے لیے احتیاط کے پیغام کو آگے بڑھائے، لیکن افسوسناک ہے کہ لوگ اس معاملے پر اپنے لیے فائدے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں