44

موٹر وے زیادتی کیس..کب اؤر کیسے..

لاھؤر(حالات جنرل رپورٹر )موٹر وے زیادتی کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا، دونوں ملزمان کو تقریباً ساڑھے 6 ماہ بعد سزا سنادی گئی، موٹر وے ریپ کا واقعہ پچھلے سال 8 اور 9ستمبر کی درمیانی شب پیش آیا تھا۔
لاہور میں 8 اور 9ستمبر 2020 ءکی درمیانی شب ایسٹرن بائی پاس پر ریپ کیس میں ملوث دونوں مجرمان کو تقریباً ساڑھے 6 ماہ بعد سزا سنادی گئی،
زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون بچوں کے ہمراہ ڈیفنس سے براستہ ایسٹرن بائی پاس گوجرنوالہ جارہی تھی کہ گاڑی کا پٹرول ختم ہونے پر وہ سڑک کنارے کھڑی ہوگئی، جہاں ملزمان نے پہلے اسے لوٹا اور پھر بچوں کو یرغمال بنا کر اس سے زیادتی کی۔

ملزمان تک پہنچنے کے پولیس اور فارنزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے خون کے نمونے لیے اور اپنے ڈیٹا بینک کی مدد سے مرکزی ملزم عابد ملہی کا سراغ لگا لیا۔

کیس میں زیر حراست چند افراد کی نشاندہی پر ایک ملزم شفقت کو ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا، جس نے عابد ملہی سے مل کر واردات کرنے کا اعتراف کیا، بعدازاں پولیس نے مرکزی ملزم عابد ملہی کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے اس کے اہلخانہ کو حراست میں لے لیا ، عابد ملہی اپنے والد سے ملنے مانگا منڈی پہنچا تو اسے بھی گرفتار کر لیا گیا۔

تفتیشی افسر ذوالفقار چیمہ نے انتہائی مہارت سے دو سو صفحات پر مشتمل چالان 3 ہفتے قبل عدالت میں پیش کیا تھا، کیس میں متاثرہ خاتون سمیت 50 گواہ پیش ہوئے جن میں مدعی شہزاد آصف، ون فائیو پر اطلاع دینے والا خالد مسعود، ڈاکٹرز، پولیس اہلکار ،فارنزک ایجنسی کے نمائندے، تھانے اور ڈولفن فورس کے اہلکاروں سمیت شناخت پریڈ کرنے والے دو مجسٹریٹ بھی شامل تھے۔

تمام گواہان اور پراسیکوٹرکے دلائل کے بعد سماعت 10 روز میں مکمل کی گئی، کیس کی سماعت کیمپ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کی، جمعرات کو فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد آج سنادیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں