18

میں یہاں سب کو بتانے آیا ہوں کہ پاکستان کن حالات سے گزر رہا ہے

سیلاب سے متاثر آباد کاری میں عالمی برادری مدد کرے، ہم جس صدمے سے دوچار ہوئے اسے بیان کرنے کیلئے الفاظ نہیں ہیں، 40 دن اور 40 راتیں بارشوں سے ایسا سیلاب آیا جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھا، آج بھی ملک کا بڑا حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، سیلاب کی وجہ سے 1500 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں، وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

نیویارک (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے 1500 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 3 کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ میں یہاں سب کو بتانے آیا ہوں کہ پاکستان کن حالات سے گزر رہا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ 40 دن اور 40 راتیں بارشیں ہونے سے ایسا سیلاب آیا جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھا، آج بھی ملک کا بڑا حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، سیلاب کی وجہ سے 1500 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
پاکستان میں ایسی قدرتی آفت کو نہیں دیکھا جس نے لوگوں کی زندگی بدل دی ہو، ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے پاکستان شدید متاثر ہو رہا ہے، پاکستان کے لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے ساتھ یہ کیوں ہوا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں تباہی یہاں کے لوگوں کی وجہ سے نہیں ہوئی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میرا دل اور دماغ اس وقت بھی پاکستان میں ہے جو سیلاب سے متاثر ہے، ہمیں پہلے بڑھتے درجہ حرارت اب سیلاب کی تباہی کا سامنا ہے، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پاکستان اس وقت دنیا کا گرم ترین ملک بن گیا ہے، عالمی حدت سے خطے میں گلیشیر پگھلنا شروع ہوگئے ہیں، دنیا میں جو کاربن فضا کا حصہ بن رہی ہے، پاکستان کا اس میں 1 فیصد حصہ بھی نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے پاس فنڈز اور ضروریات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے، جس حد تک ممکن ہے اپنے اخراجات سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے وقف کیے ہیں۔ میرا سوال ہے کہ یہ بحران جس کے ہم ذمے دار نہیں ہیں، کیا اس بحران ہم میں اکیلے رہ جائیں گے؟ پاکستان میں جو ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا، دنیا سے موسمیاتی انصاف کی امید لگانا غلط نہ ہو گا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ان تمام رہنماؤں کا شکریہ جو اس مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت سمیت تمام ہمسائیہ ممالک سے پرامن تعلقات چاہتے ہیں، پاکستان خطے میں امن کے عزم پر قائم ہے، بھارت کو سمجھنا ہوگا دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں جنگ آپشن نہیں ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ہر شکل اور صورت میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
نائن الیون کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف رویوں میں شدت آئی ہے، اسلاموفوبیا ایک عالمی رجحان ہے، اقوام متحدہ اسلاموفوبیا سے متعلق اپنائی گئی قرارداد پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ وزیر اعظم نے سلامتی کونسل کے حوالے سے اہم تجویز دیتے ہوئے کہا مستقل اراکین کی تعداد بڑھانے سے طاقت کا توازن خراب ہو گا، سلامتی کونسل میں مزید 11 غیر مستقل اراکین شامل کرکے اس کے اختیارات بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں