52

جرمنی میں گزشتہ برس کم از کم اکیس بےگھر افراد قتل کر دیے گئے

اسلام آباد (میڈیا رپورٹ) یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک جرمنی میں 2020ئ کے دوران مختلف شہروں میں ان کم از کم 21 انسانی ہلاکتوں کے بارے میں تفصیلات بے گھر افراد کی مدد کرنے والی ملکی تنظیم نے بتائیں۔ جرمنی میں بے گھر انسانوں کی مدد کرنے والے وفاقی ورکنگ گروپ (بی اے جی ڈبلیو) کے مطابق اس سال بھی اب تک ملک میں تین ایسے افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے، جن کے سروں پر اپنی کوئی چھت نہیں تھی۔
32 برسوں میں 586 پرتشدد ہلاکتیں.جرمن جریدے ‘دی وَیلٹ‘ میں آج جمعرات اٹھارہ مارچ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بےگھر افراد کی فلاح و بہبود سے متعلق جرمنی کی ملک گیر سطح پر فعال اس تنظیم نے بے خانماں شہریوں کے خلاف مہلک جرائم کے ارتکاب سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے کا کام 1989ئ میں شروع کیا تھا۔
دہلی میں بے گھر ہونے کا کرب
اس تنظیم کے مطابق 1989ئ سے آج تک جرمنی میں سینکڑوں پرتشدد جرائم میں مجموعی طور پر 586 بے گھر افراد ہلاک کر دیے گئے۔
ان میں سے 323 انسانی ہلاکتوں کے ذمے دار مجرم خود بھی بے گھر تھے۔
سخت سردی کے باعث انسانی اموات
مجرمانہ وارداتوں میں بے گھر افراد کی ہلاکتوں کے علاوہ ایسے افراد کی موت کی ایک اہم وجہ ملک میں شدید موسم سرما بھی بنتا ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ کہ عملا? گزشتہ برس ستمبر میں ہی شروع ہو جانے والے موجودہ موسم سرما کے دوران ملک بھر میں اب تک کم از کم 22 بےگھر افراد سردی سے ٹھٹھر کر ہلاک ہو گئے۔
جرمنی: بے گھر افراد کو سردی سے بچانے کے لیے ’سلیپنگ کیسپول‘
بی اے جی ڈبلیو کی ناظم الامور ویرینا روزینکے کے مطابق بےگھر افراد کی پرتشدد واقعات میں یا انتہائی سرد موسم کے باعث ہلاکتوں سے متعلق یہ وہ اعداد و شمار ہیں، جو مقامی یا علاقائی میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ تاہم ایسی ہلاکتوں کی اصل تعداد اس لیے بہت زیادہ ہو سکتی ہے کہ ایسے کئی واقعات یا جرائم رونما تو ہوتے ہیں مگر وہ میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوتے۔
بےگھر شہری سے خیرات کے سکے چھیننے والے دو نوجوان گرفتار
مجرم خود بےگھر نا ہوں تو کون ہوتے ہیں؟
ویرینا روزینکے نے جریدے ‘دی وَیلٹ‘ کو بتایا، ”بےگھر افراد کے خلاف جن مہلک جرائم کے مرتکب افراد خود بےگھر نہیں ہوتے، ان کا ارتکاب زیادہ تر انسانوں سے نفرت یا دائیں بازو کی انتہا پسندی کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔“
اٹلی کے قصبے میں پاکستانیوں کا مہمان خانہ
بے خانماں افراد کی مدد کرنے والی اس جرمن تنظیم کی سربراہ نے کہا، ”بے گھر افراد اپنی زندگی میں سماجی سطح پر دوسرے درجے کے شہری بن جاتے ہیں۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے انسان اپنی موت کے بعد دوسرے درجے کے مقتولین یا ہلاک شدگان بھی بن جاتے ہیں۔“
چھیالیس ملین بے گھر ہونے والوں میں انیس ملین بچے، اقوام متحدہ
انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں عام شہریوں کے خلاف جن جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے، ان کی تفتیش کے لیے تو کافی زیادہ وسائل خرچ کیے جاتے ہیں۔
لیکن جب انہی جرائم کا ارتکاب بےگھر افراد کے خلاف کیا جاتا ہے، تو ان کی چھان بین پر اس حوالے سے بہت زیادہ عملی توجہ نہیں دی جاتی کہ مجرم کون تھے، کس طرح کی ذہنیت کے مالک تھے اور انہوں نے ان جرائم کا ارتکاب کیوں کیا؟“
برلن میں بے گھر افراد کے خلاف جرائم
جرمنی کی ایک شہری ریاست اور وفاقی دارالحکومت برلن ایک ایسا صوبہ ہے، جہاں پولیس کی طرف سے گزشتہ چھ برسوں سے بےگھر افراد کے خلاف جرائم کا باقاعدہ علیحدہ سے ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔
’شبِ یکجہتی‘: برلن میں پہلی مرتبہ بے گھر افراد کی مردم شماری
2015ئ میں ملک کے اس سب سے زیادہ آبادی والے شہر میں بے گھر انسانوں کے خلاف 196 پرتشدد جرائم ریکارڈ کیے گئے تھے اور گزشتہ برس یہ سالانہ تعداد دو گنا سے بھی زیادہ ہو کر 478 رہی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں