50

ملیر ایکسپریس وے کا روٹ تبدیل کرنے کا فیصلہ

سندھ حکومت نے پی ایس 88 کے 20 سے زائد گوٹھوں کو بچانے کی خاطر ملیر ایکسپریس وے کا روٹ تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا، نئے ڈیزائن کی منظوری سندھ کابینہ سے لی جائے گی۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بننے والے سب سے بڑے منصوبے میں سندھ حکومت کی جانب سے رد و بدل کیا گیا ہے، نئے روٹ کے مطابق اب قائد آباد پل کے بعد ایکسپریس وے کو موڑ دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق روٹ کی تبدیلی سے لوگوں کے گھروں اور زرعی زمینوں کا نقصان بہت کم ہوگا، نئے روٹ میں زیادہ تر زمینیں سرکار کی ملکیت ہیں۔

حکام کاکہنا ہے کہ ملیر ایکسپریس وے کے نئے روٹ میں جام کنڈا کے پاس واقعےگوٹھ گلشن مریم متاثر ہوگا، نئے ڈیزائن کی منظوری سندھ کابینہ سے لی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ این ای ڈی اور نیسپاک ڈیزائن تبدیلی کی ٹیکنیکل رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کریں گے۔

واضح رہے کہ ملیر ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد دسمبر 2020 ء میں بلاول بھٹو زرداری نے رکھا تھا،ملیر ایکسپریس وے 27 ارب روپے کی لاگت سے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت بنایا جانا ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل کے لئے سندھ حکومت نے تین سال کا وقت رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں