67

وزیر اعظم عمران خان کا بیان آئین پر حملہ ہے، اکبر ایس بابر

وزیر اعظم عمران خان کا بیان آئین پر حملہ ہے، اکبر ایس بابر

پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن پر الزام لگایا، ان کا بیان آئین پر حملہ ہے، یہ دو ماہ پہلے کہتے تھے کہ الیکشن کمیشن پر پورا اعتماد ہے۔

الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے درخواست گزار تحریک انصاف کے بانی رکن اور 2011 ءتک پارٹی میں مختلف عہدوں پر فائز رہنے والے اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کی۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ میں آج بھی تحریک انصاف کا رکن ہوں، میں تحریک انصاف کا تمام ریکارڈ دیکھ سکتا ہوں، آپ نے 23 اکاؤنٹ خفیہ رکھے ہوئے ہیں، یہ اکاؤنٹ عمران خان اور ان کے لوگ آپریٹ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 6 بین الاقوامی اکاؤنٹ کی نشاندہی کی ہے، ایک بھی اکاؤنٹ سامنے نہیں آیا، الیکشن کمیشن نے 22 تاریخ کو سماعت رکھی ہے۔

اکبر ایس بابر نے بتایا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے خود کہا ہے کہ ہم پر دباؤ ہے اس لئے دستاویزات نہیں دے رہے۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کے ممبر خیبر پختونخوا ارشاد قیصر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اکبر ایس بابر کی درخواست پر سماعت کی۔

فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیئے اور کہا کہ کمیشن نے اپریل 2019ء میں ہی فیصلہ کیا تھا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی ضرورت ہے،بینک اکاؤنٹس اور فنڈز کی تفصیلات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔

وکیل احمد حسن نے کہا کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ دوسری پارٹی نے ریکارڈ جمع کروایا یا نہیں، ہمیں کوئی بھی ریکارڈ نہیں دیا جا رہا، یہ کہا گیا کہ ایک گھنٹے میں آپ کو کارروائی کے دوران کاغذات دکھا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی میں پیش کیے گئے ریکارڈ تک رسائی ہمارا قانونی حق ہے، معلومات تک رسائی کا قانون ہمیں ریکارڈ تک رسائی کا حق دیتا ہے۔

وکیل اکبر ایس بابر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ثبوتوں کے جواب میں جو ریکارڈ پی ٹی آئی نے دیا وہ ہم سے خفیہ کیوں رکھا جا رہا ہے؟ اسکروٹنی کمیٹی ہمیں کوئی کاغذ دینے کو تیار نہیں،ایسا لگ رہا ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی صرف دکھاوا ہے۔

اکبر ایس بابر کے وکیل نے بتایا کہ اسکروٹنی کا عمل کیسے ممکن ہےجب مجھے کوئی جواب ہی نہیں دیا جائے گا،اس پر ممبر خیبرپختونخوا ارشاد قیصر نے سوال کیا کہ کیا آپ ان کاغذات کی صداقت دیکھنا چاہتے ہیں؟، الیکشن کمیشن نے کیا اس پر کوئی حکم نامہ دیا ہے؟

وکیل احمد حسن نے بتایا کہ شفافیت کا یہ تقاضا ہے کہ تمام کاغذات فراہم کیے جائیں، سیاسی جماعت کا تمام ڈیٹا پبلک ہوتا ہے، یہ بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ اس مٹیریل کا غلط استعمال نہیں کیا جائے گا،کہا جاتا ہے آپ کی درخواست میں ایک اکاؤنٹ کا ذکر تھا، یہاں تو26 اکاؤنٹ نکل آئے،ہمارا کام تھا اکاؤنٹ کی نشاندہی کرنا۔

اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حنیف عباسی کیس میں کہا الیکشن کمیشن کے پاس مکمل اختیار ہے، جیسے اسکروٹنی کا عمل ہورہا ہے یقین نہیں ہو پا رہا کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، ایک سال کے ریکارڈ دینے پر پی ٹی آئی انکاری ہے۔

ممبر کے پی ارشاد قیصر نے پوچھا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے کیا خود کوئی ریکارڈ اکٹھا کیا ہے؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی کچھ ریکارڈ جمع کیا ہے لیکن ہمیں نہیں بتایا جارہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں