سرسید ایکسپریس میں زیادتی کی شکایت کرنے والی خاتون بیان سے منحرف ہوگئی

سکیورٹی گارڈز فحش باتیں کرکے تنگ کر رہے تھے ، غصے میں پولیس کو کال کرکے زیادتی کا جھوٹ بولا۔ خاتون کا نیا بیان

راولپنڈی ( کرائم ڈیسک ) سرسید ایکسپریس میں زیادتی کی شکایت کرنے والی خاتون بیان سے منحرف ہوگئی ، خاتون کے بیان بدلنے پر پولیس نے معاملے کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ آئی جی ریلوے پولیس کو بجھوا دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نجی شعبے میں چلنے والی ٹرین سرسید ایکسپریس کے سکیورٹی گارڈز پر زیادتی کا الزام لگانے و الی خاتون تحقیقات کے دوران اپنے بیان سے منحرف ہو گئی ، خاتون نے اپنے نئے بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی گارڈز اسے فحش باتیں کرکے تنگ کر رہے تھے ، اس لیے غصے میں پولیس کو کال کرکے زیادتی کا جھوٹ بولا تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی سے راولپنڈی جانے والی ٹرین کی مسافر خاتون نے 2 سکیورٹی گارڈز پر زیادتی کا الزام لگایا جس کے بعد ریلوے پولیس نے دونوں سکیورٹی گارڈز کو حراست میں لے لیا تاہم زیر حراست سکیورٹی گارڈز نے پولیس کو بتایا کہ خاتون ٹرین میں بغیر ٹکٹ سفرکررہی تھی بغیر ٹکٹ سفر کرنے پر خاتون کو پکڑاجس پر خاتون نے زیادتی کا الزام لگا دیا۔

بتایا گیا کہ ریلوے پولیس کی جانب سے میڈیکل کے لیے متاثرہ خاتون کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں میڈیکل چیک مکمل ہونے کے بعد ابتدائی میڈیکل رپورٹ جاری کی گئی ، جس میں خاتون پر تشدد یا زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔ واضح رہے کہ کچھ ہفتے قبل ہی پاکستان ریلوے کی زکریا ایکسپریس میں ایک خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا تھا اور چند روز قبل ہی اس کیس میں اہم پیش رفت ہوئی جب 3 مرکزی ملزمان کے ڈی این اے کے نمونے متاثرہ خاتون سے میچ کر گئے ، جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کراچی کی عدالت کو بہاؤ الدین زکریا ایکسپریس میں خاتون سے زیادتی کے کیس میں پنجاب فرانزک لیب سے ملزمان کی ڈی این اے رپورٹ موصول ہوئی۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 3 ملزمان کے ڈی این اے متاثرہ خاتون کے نمونوں سے میچ کر گئے ، کیس میں متاثرہ خاتون 2 ملزمان کو شناخت بھی کر چکی ہیں جب کہ عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان بھی قلم بند کر لیا جبکہ بہاؤ الدین زکریا ایکسپریس میں خاتون سے مبینہ زیادتی کے کیس میں ملزمان کی جانب سے اجتماعی زیادتی کی ویڈیو بنانے کا بھی انکشاف ہوا ، یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کراچی کی عدالت میں بہاء الدین زکریا ایکسپریس میں خاتون سے مبینہ زیادتی کیس کی سماعت ہوئی جہاں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے مبینہ اجتماعی زیادتی کی ویڈیو بھی بنائی تھی ، ملزمان کے موبائل فون اور ویڈیوز برآمد کرنی ہیں ، جس پر عدالت نے گرفتار 5 ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کر دی۔
خیال رہے کہ ملزمان نے 28 مئی کو ملتان سے کراچی آنے والی خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی ، گرفتار ملزمان میں محمد زاہد،عاقب منیر، ذوہیب، عامر رضا اور عبد الحفیظ شامل ہیں ، ان ملزمان کے خلاف سٹی ریلوے تھانے میں مقدمہ درج ہے ، متاثرہ خاتون عدالت میں دو ملزمان کو شناخت بھی کرچکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں