سیلز ٹیکس اور ڈالر کا بڑھتا ہوا ریٹ ادویات کی قلت میں اضافے کی وجہ قرار

17 فیصد سیلز ٹیکس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا‘ ڈالرکا ریٹ 210 روپے ہونے سے خام مال کی امپورٹ بھی رک گئی‘ بخار ، خون پتلا کرنے، کینسر اور جوڑوں کے درد سمیت دیگر جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہوئی۔ صدر پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچرز ایسوسی ایشن

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے سیلز ٹیکس اور ڈالر کے ریٹ کو ادویات کی قلت میں اضافے کی وجہ قرار دے دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کے صدر قاضی منصور دلاور نے کہا ہے کہ 17 فیصد سیلز ٹیکس اور ڈالرکے ریٹ میں اضافے سے ادویات کے خام مال کی کمی سے مزید 40 ادویات کی قلت پیدا ہوگئی کیوں کہ فارما انڈسٹری پر17 فیصد سیلز ٹیکس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگیا ، جس کی وجہ سے ڈالرکاریٹ 210 روپے ہونے سے خام مال کی امپورٹ بھی رک گئی اور بخار، خون پتلا کرنے، کینسر اور جوڑوں کے درد سمیت دیگر جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہوگئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ادویات بنانے والی کمپنیوں نے 17 فیصد سیلز ٹیکس مسترد کرتے ہوئے فیکٹریاں بند کرنے کی دھمکی تھی ، اسلام آباد میں پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر قاضی منصور دلاور نے کہا ہے کہ معاشی بحران روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور ادویات کی پیداواری لاگت میں کئی 100 گنا اضافہ ہوچکا ہے ، سیلز ٹیکس ، فیول ، فریٹ چارجز اور مہنگے ڈالر سے لاگت بڑھی ہے ، جس کے باعث فارما انڈسٹری کیلئے مزید ادویات بنانا ناممکن ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیسن را مٹیریل پر17 فیصد سیلز ٹیکس کو ختم کرکے زیرو ریٹڈ کیا جائے کیوں کہ 17 فیصد سیلز ٹیکس کی وجہ سے مارکیٹ میں ادویات کی قلت ہے ، اس لیے حکومت 17 فیصد سیلز ٹیکس کا فیصلہ فوری طورپرواپس لے اور سیلز ٹیکس کی مد میں لیے 40 ارب ریفنڈ کرے اور ادویات کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے ، حکومت نے 5 دن میں مطالبات تسلیم نہ کئے تو فیکٹریوں کی تالہ بندی کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں