سیلز ٹیکس کا نفاذ، جان بچانے والی ادویا ت نایاب

مریضوں کو ادویات کے حصول میں مشکلات کا سامنا،مزید ادویات کی قلت کا خدشہ

لاہور (نیوز ڈیسک) ملک میں جان بچانے والی 10 ادویات مارکیٹ میں نایاب ہو گئیں۔میڈیا رپورٹس کےمطابق حکومت او ر پاکستان فارماسیو ٹیکل مینو فیکچرز ایسوسی ایشن کے درمیان سیلز ٹیکس کے نفاذ کے معاملے پر جاری لڑائی کے باعث ملک بھر میں انسانی جان بچانے والی 10ادویات کی قلت ہوگئی۔بتایاگیا کہ 10 ادویات نایاب ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ان ادویات کےحصول میں شدید مشکلات کا سامناہے اور علاج و معالجہ بھی متاثر ہورہاہے، وفاقی حکومت کی طرف 17 فیصد سیلز ٹیکس کا خاتمہ نہ ہوا تو مستقبل قریب میں 60 سے 80 فیصد ادویات مارکیٹ سے نایاب ہو جائیں گی، اس وقت مارکیٹ میں تھائی راکسن ،پیرا سٹا مول ،سیفراڈین ،سیفنریم ، اسپرین اورکوایماسکی سلین سمیت 10 ادویات کی قلت کا سامناہے ۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ادویات بنانے والی کمپنیوں نے 17 فیصد سیلز ٹیکس مسترد کرتے ہوئے فیکٹریاں بند کرنے کی دھمکی تھی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر قاضی منصور دلاور نے کہا ہے کہ معاشی بحران روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور ادویات کی پیداواری لاگت میں کئی 100 گنا اضافہ ہوچکا ہے ، سیلز ٹیکس ، فیول ، فریٹ چارجز اور مہنگے ڈالر سے لاگت بڑھی ہے ، جس کے باعث فارما انڈسٹری کیلئے مزید ادویات بنانا ناممکن ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیسن را مٹیریل پر17 فیصد سیلز ٹیکس کو ختم کرکے زیرو ریٹڈ کیا جائے کیوں کہ 17 فیصد سیلز ٹیکس کی وجہ سے مارکیٹ میں ادویات کی قلت ہے ، اس لیے حکومت 17 فیصد سیلز ٹیکس کا فیصلہ فوری طورپرواپس لے اور سیلز ٹیکس کی مد میں لیے 40 ارب ریفنڈ کرے اور ادویات کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے ، حکومت نے 5 دن میں مطالبات تسلیم نہ کئے تو فیکٹریوں کی تالہ بندی کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں