63

عورت مارچ۔۔۔ خلیل الرحمان قمر خاموش نہ رہے ،پھر کھل کر بول پڑے

لاہور، کراچی( این این آئی)نامورمصنف و ہدایتکار خلیل الرحمان قمرنے کہا ہے کہ ہر چیز اپنی حدود میں اچھی لگتی ہے اورجب کوئی اپنی حدود سے باہرنکل جائے تو پھریقینا اس پر بات ہوتی ہے ، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو عزت و احترام اورحقوق میسر نہیں ہیں ، مٹھی بھر خواتین جو کررہی ہیںوہ کسی عالمی ایجنڈے کا حصہ ہیں ۔ایک انٹرویو میں خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ آٹھ مارچ کو جو کچھ کیا جاتا ہے اور پھر جس طرح اس کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے

ہر ذی شعور جانتا ہے اس کے پیچھے اصل ایجنڈا کیا ہے ہے ۔ اگرکوئی شخص اس پر بات کرتا ہے تو اسے خواتین کی آزادی کے خلاف بات کرنے والا کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عورت چاہے وہ ماں،بہن ،بیٹی اوربیوی ہو اسے عزت و احترام حاصل ہے ، آٹھ مارچ کو سڑکوں پر آنے والی خواتین کسی صورت بھی ہماری آبادی کے نصف سے زائد کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ ان کا اپنا ایک ایجنڈا ہے ۔دوسری جانب پاکستان میوزک انڈسٹری کی معروف گلوکارہ میشا شفیع بھی عورت مارچ کے مخالفین کو کھری کھری سنانے میدان میں آگئیں۔ میشا شفیع نے ٹوئٹر پر عورت مارچ کی حمایت میں ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ مظلوم طبقے کیلئے اپنی آواز بلند کرنے کا صرف ایک ہی عالمی دن ہے اور جب وہ  پسماندہ اور زیادتی کا شکار طبقہ اس دن سڑکوں پر نکلا تو نفرت انگیز افراد نے اس دنکو بھی تاریک بنا دیا۔گلوکارہ نے اپنے اگلے ٹوئٹ میں لکھا کہ یاد رہے کہ اس مرتبہ یہ معاملہ ایک لڑکی کے پوسٹر سے شروع ہوا جسے ایک مولوی نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔انہوں نے افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بچوں کو زیادتی کا شکار بنانے والے درندے آزاد گھوم رہے ہیںاور ان کے خوف کی وجہ سے بچے گلیوں میں کھیل نہیں سکتے لیکن عورت مارچ کو ایک مغربی ایجنڈا قرار دیا گیا ہے۔میشا شفیع نے ایک اور ٹوئٹ میں شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ایک ہی بار ساری عورتوں پر پابندی لگا دو، قصہ ہی ختم ہوجائے گا، نہ ہم رہیں گے، نہ تم۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں