127

پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے بدترین مندی کی لپیٹ رہنے سے پاکستانیوں کے کے 399ارب روپے ڈوب گئے

کراچی (آن لائن) پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے بدترین مندی کی لپیٹ میں رہی ،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کے باعث سیاسی عدم استحکام جیسی صورتحال پیدا ہونے پر سرمایہ کاروں میں پائی جانیوالی بے چینی کے سبب منافع کی خاطر فروخت کے دبائو سے اسٹاک مارکیٹ کریش ہو گئی جس کی وجہ سے انڈیکس ایک ہفتے کے دوران 2ہزار پوائنٹس گھٹ گیا جبکہ کےایس ای100انڈیکس 45ہزار اور44ہزار پوائنٹس کی دو بالائی حدیں گنو ابیٹھا اور43700پوائنٹس کی پست ترین سطح پر بند ہوا ۔مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 399ارب روپے ڈوب گئے اور سرمائے کا مجموعی

حضم81کھرب روپے سے گھٹ کر77کھرب روپے کی کم سطح پر آگیا جبکہ 66.14فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں۔ماہرین کے مطابق سینٹ الیکشن میں ناکامی کے بعد مشیر خزانہ کی تقرری کو قانونی طور پر محفوظ بنانے میں مسائل ،آئی ایم ایف کی شرط پر 80ارب روپے کے مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کئے جانے ،سیاسی افق بر چھائی غیر یقینی صورتحال ،افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح ستے متعلق تشویش ،کورونا کیسز ڈھائی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے پاکستان کو ملنے ولاے برآمدی آرڈر زدیگر ممالک کو منتقل ہونے اور دوبارہ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کے خدشات،،چیئرمین سینٹ کے انتخابی سرگرمیوں پر مختلف قیاس آرائیوں اور آئی ایم ایف کی اسٹیٹ بینک کو خود مختار بنانے کی شرط جیسی خبروں پر سرمایہ کار تذبذب کا شکار رہے جس کی وجہ سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے شدیدترین مندی کا شکار رہی اور4دنوں کی مندی میں انڈیکس3057.59پوائنٹس گھٹ گیا جبکہ کورونا کیسز کی تیسری لہر میں وفاقی وزیر کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور سینیٹ الیکشن میں حکومت کےنامزد کردہ سینٹر ز کے جیتنے کے قومی امکانات کی خبروں سے سرمایہ کاروں میں اعتماد بحال ہوا اور انہوں نے نچلی قیمت پر حصص کی خریداری کو ترجیح دی جس کے سبب 1کی تیزی سے انڈیکس1008.32پوائنٹس ریکور ہوا تاہم مجموعی طور پر مارکیٹ پر مندی کے اثرات غالب رہے ۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کے ایس ای100انڈیکس میں 2049.27پوائنٹس کی کمیریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں انڈیکس 45837.35پوائنٹس سے کم ہو کر73788.08پوائنٹس ہو گیا جبکہ کے ایس ای30انڈیکس 1024.46پوائنٹس کی کمی سے 19173.83پوائنٹس سے کم ہو کر18149.37پوائنٹس ہو گیا اسی طرح کے ایس ای آل شیئر ز انڈیکس 31402.02پوائنٹس سے کم ہو کر30013.05پوائنٹس پر بند ہوا۔مندی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں3کھرب99ارب49کروڑ50لاکھ58ہزار850روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 81کھرب92ارب4کروڑ35لاکھ78ہزار669روپے سے کم ہو کر77کھرب92ارب54کروڑ85لاکھ19ہزار849روپے ہو گیا ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے زیادہ سے زیادہ 23ارب روپے مالیت کے49کروڑ23لاکھ14ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ کم سے کم17ارب روپے مالیت کے 40کروڑ61لاکھ حصص کے سودے ہوئے تھے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر انڈیکس 46435.75پوائنٹس کی بلند سطح کو چھو گیا تھا تاہم مندی کے سبب ایک موقع پر انڈیکس 42689.42پوائنٹس کی کم سطح تک گر گیا تھا ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر 2041کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے621کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،1350میں کمی اور70کمپنیوں کے حصص کیقیمتوں میں استحکام رہا ۔کاروبار کے لحاظ سے ازگارڈ نائن ،یونٹی فوڈز لمیٹڈ ،ٹی آر جی پاک لمیٹڈ ،پاک ریفائنری ،بائیکو پیٹرولیم ،غنی گلوبل ،ٹیلی کارڈ لمیٹڈ کے الیکٹرک لمیٹڈ فوجی فرٹیلائزر بن قاسم پاک انٹر نیشنل بلک ،ورلڈ کال ٹیلی کام ،کوٹ ادو پاور ،فوجی سیمنٹ ،ہم نیٹ ورک اٹک ریفائنری اورجہانگیر صدیق کمپنی سر فہرست رہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں