30

شوگر ملز تحقیقات میں حکومتی شخصیات کی کمپنیوں کیخلاف کارروائی نہ کیے جانے کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے شوگر ملز تحقیقات میں حکومتی شخصیات کی کمپنیوں کیخلاف کارروائی نہ کیے جانے پر ایف بی آر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بلاامتیاز کارروائیوں پر مبنی رپورٹ پیش کا حکم دیدیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے حکم پر ایف بی آر نے شوگر ملز کے خلاف تحقیقات کیں
اور 400ارب سیزائد ٹیکس وصولی کی تفصیلات پر مبنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ چھوٹی کمپنیوں کے خلاف کاروائی مکمل کرلی گئی ہے تاہم، ایف بی آربڑی مچھلیوں سیکچھ نہ نکلواسکا اور حکومتی شخصیات کی شوگر ملوں کے خلاف

ٹیکس وصولی کی کوئی رپورٹ نہیں دی گئی۔وزیراعظم نے بلا امتیاز کارروائیاں نہ کیے جانے پر ایف بی آر حکام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا بتایا جائے“اکراس دی بورڈ”کاروائیاں کیوں نہیں کی گئیں؟رپورٹ میں بتایا گیا کہ چھوٹی شوگر ملوں کے خلاف تحقیقات مکمل کرکے ٹیکس بھی ریکورکر لیا گیا تاہم بڑی کمپنیوں کیخلاف تحقیقات مکمل کرنے میں رکاوٹ کیا ہے؟ایف بی آر اس حوالے سے مطمئن نہ کرسکا۔ایف بی آر نے موقف میں کہا کہ بڑی شوگر ملوں کیخلاف تحقیقات جاری ہیں، شریف فیملی،جیکیٹی گروپ کیخلا ف تحقیقات نہ ہوسکیں۔خسرو بختیار گروپ، ہمایوں اختر گروپ کے خلاف بھی تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں، رمضان شوگرملز،جیڈی ڈبلیو،آر وائی کے اور اتحاد شوگر ملزکے خلاف بھی کارروائی نامکمل ہیں۔وزیراعظم نے حکومتی شخصیات کی کمپنیوں کے خلاف کارروائی سے گریز پر شدید اظہار ناپسندیدگی کرتے ہوئے ایف بی آر کو بلا تفریق بلا امتیاز کارروائیوں پر مبنی رپورٹ پیش کا حکم دیا۔خیال رہے وزیراعظم نے چھوٹی بڑی 89 شوگر کمپنیوں سے واجب الادا مکمل ٹیکس وصولی کا حکم دے رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں