42

مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں خواتین کا قتل اوربے حرمتی،خواتین کی دکھی کر دینے والی داستانیں، تہلکہ خیز رپورٹ

اسلام آباد (این این آئی) دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا گیا تاہم بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے کشمیری خواتین پر ظلم و جبر کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور وہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے
ریسرچ سیکشن کی طرف سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے ہزاروں خواتین سمیت 95 ہزار747 شہریوں کو شہید کیا۔بھارتی

فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم675 خواتین کو شہید کیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 22 ہزار 924 خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے11 ہزار 236 خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی آبرو ریزی اور شوپیاں میں بے حرمتی کے بعدمار دی جانے والی 17سالہ آسیہ جان اور اسکی بھابی نیلوفر جان بھی شامل تھیں۔ بھارتی پولیس اہلکاروں نے جنوری 2018 میں کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغواء اور بے حرمتی کا نشانہ بنانے کے بعد مار دیا تھا جبکہ گزشتہ سال بھارتی فوجیوں نے نصرت جبین، حلیمہ بیگم، فاطمہ بیگم، نگہت بشیر اور خیرالنسا سمیت متعدد خواتین کی بے حرمتیاں کیں جن سے کشمیر میں خواتین کے خلاف جاری گھناؤنے جرائم کی عکاسی ہوتی ہے۔ ضلع بانڈی پورہ کے علاقے چیواجس میں رواں سال 10 فروری کو بھارتی فوجیوں نے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسے گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں ڈالا جب وہ اپنی بہن کے ہمراہ کام کر رہی تھی۔ اس کی بہن نے
چیخ و پکار کی جس پر مقامی افراد نے موقع پر پہنچ کر بچی کو بچایا۔ متاثرہ خاندان نے اجس پولیس اسٹیشن میں مقدمہ در ج کرایا تاہم بھارتی فوجیوں نے مقدمہ واپس لینے کیلئے مذکورہ خاندان کو حراساں کیا۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے ہزاروں خواتین کے بیٹوں، شوہروں اور بھائیوں
کو حراست کے دوران لاپتہ اورمار دیا ہے۔ دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم کے مطابق 33 برس کے دوران 8 ہزار سے زائد کشمیریوں کو حراست کے دوران لاپتہ کیاگیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہزاروں کشمیری نوجوان، طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے پرامن مظاہرین پر گولیوں اور پیلٹ
گنوں کے وحشیانہ استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں۔ ان زخمیوں میں سے 19ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار، دو سالہ نصرت جان، الفت حمید، انشا مشتاق،افرہ شکور، شکیلہ بانو، تمنا، شبروزہ میر، شکیلہ بیگم اور رافعہ بانو سمیت سینکڑوں بچے اور بچیاں اپنی آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں۔ بھارتی فورسز نے 10 جولائی 2016 کو
سرینگر کے علاقے قمر واری میں اپنے گھر کے باہر موجود چار سالہ زہرہ مجید پر پیلٹ گنز سے فائرنگ کی جس سے اس کی ٹانگیں اور پیٹ زخمی ہو گئے۔ بارہمولہ سے تعلق رکھنے والی 10 جماعت کی طالبہ 17 سالہ الفت حمید کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گاؤں میں لڑکیوں کو سلائی اور کڑھائی سکھاتی تھی زخمی ہونے کی وجہ سے وہ نہ تو
دسویں جماعت کا بورڈ کا امتحان دے سکی اور نہ ہی سلائی اور کڑھائی کی تربیت دے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حریت رہنماء 59 سالہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، 57 سالہ نسیمہ بانو، انشا طارق شاہ، شازیہ اختر، حنا بشیر بیگ، آسیہ بانو اور آلاس آرا سمیت درجنوں خواتین کشمیر اور بھارت کی بدنام زمانہ جیلوں میں غیر قانونی
طورپر نظربند ہیں۔ انہیں صرف کشمیری عوام کی حق پرمبنی تحریک آزادی جاری رکھنے پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔گزشتہ سال بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیری صحافیوں کر ہراساں کرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا اور 26 سالہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا کوبھارتی پولیس نے دھمکی دی اور
پولیس اسٹیشن طلب کیا۔ اپریل 2020 میں سوشل میڈیا پر ایک خبر جاری کرنے پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت ان کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا اور انہیں کشمیرکے بارے میں سچ بولنے پر سزادی گئی۔ رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ نفسیاتی امراض کا شکار کشمیریوں میں اکثریت خواتین کی ہے۔ دوران
حراست لاپتہ کئے جانے والے کشمیریوں کی بیویوں کو نصف بیوائیں کہا جاتا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں متعدد مائیں اپنے لاپتہ بیٹوں کی راہ تک رہی ہیں جبکہ بیوائیں اور نصف بیوائیں شدید مشکلا ت کا شکار ہیں۔ ادھر انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس، جموں وکشمیر مسلم کانفرنس، تحریک خواتین اور مسلم خواتین مرکز نے کہا ہے
کہ آج جب دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین منایا جا رہا ہے تاہم کشمیر ی مظلوم خواتین کیلئے یہ دن کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے چیئرمین احسن اونتو نے کہا کہ کشمیری خواتین اس تنازعے سے سب سے بری طرح متاثرہوئی ہیں کیونکہ انہوں نے بھارتی ظلم و بربریت کا سامنا کیا اور بھارتی فوجی تسلط
کی قیمت ادا کی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین تمام بنیادی حقوق سے محروم ہیں جن کی ضمانت انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ اور خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے کنونشن میں دی گئی ہے۔ اس کنونشن کو 1979 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے خواتین کے حقوق کے بارے میں بین الاقوامی بل کے
طورپر منظور کیا تھا۔ احسن اونتو نے انصاف سے متعلق عالمی اداروں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ اس سلسلے میں مداخلت کریں اور کشمیری خواتین کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر نظربند حریت رہنماء ایاز محمد اکبرکی اہلیہ رفیقہ بیگم کی طرح کشمیری خواتین بدترین سیاسی اور
سماجی دباؤکا جرات مندی سے مقابلہ کر رہی ہیں۔ وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ان کے شوہر ایاز اکبر جولائی 2017سے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔ رفیقہ بیگم این آئی اے کی طرف سے ایاز اکبر کی گرفتاری کے فورابعد اس مہلک مرض میں مبتلا ہو گئی تھیں۔ ایک اور متاثرہ خاتون
معروفہ معراج جو حریت رہنماء راجہ معراج الدین کلوال کی اہلیہ ہیں نے کہا ہے کہ وہ اور انکی چار بیٹیاں شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری زندگی جہنم بنادی گئی ہے۔ راجہ معراج الدین کی عدم موجودگی میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کے شوہر کو صرف انکے سیاسی نظریات کی وجہ سے غیر قانونی طور
پرجیل میں قید کیاگیا ہے۔ ایک اور متاثرہ خاتون رافعہ بیگم جن کے بیٹے اطہر مشتاق وانی کو بھارتی فوجیوں نے گزشتہ سال دسمبر میں سرینگر میں ایک جعلی مقابلے میں شہید کردیا تھا آج بھی اپنے بیٹے کی میت کی واپسی کی منتظر ہے جسے بھارتی فوجیوں نے گاندربل میں دو اور کشمیری نوجوانوں کے ہمراہ کسی نامعلوم مقام پر دفن
کردیا تھا۔ دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں یاسمین راجہ، خواجہ فردوس،شبیر احمد ڈار اور میر شاہد سلیم نے اپنے بیانات میں اقوام متحدہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کا دعویدار ہے جبکہ دیگر اہم ممالک خواتین کو انصاف کی فراہمی کی ضمانت فراہم کرتے ہیں تاہم انہوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی مظلوم خواتین
کے تحفظ اور انکی سلامتی کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت مقبوضہ علاقے میں خواتین کی بے حرمتیوں کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج منائے جانے والے عالمی یوم خواتین کا موضوع ہے ”کورونا وبا کے بعد دنیا میں مساویانہ درجے کے حصول میں خواتین کا کردار“جس میں کشمیری
خواتین پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے کیونکہ کشمیری خواتین رہنماء بھارت کی تہاڑ جیل میں گزشتہ چاربرس سے غیر قانونی طورپر نظربند ہیں اور ان کا واحد قصور اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کرنا ہے۔جموں وکشمیر پیپلز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاقب وانی نے ایک بیان میں اقوام متحدہ اور خواتین کے حقوق کے دیگر عالمی اداروں
پرزوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کے خواتین کے خلاف جرائم پر بھارت کو جواب دہ بنائیں۔ جموں وکشمیر ماس موومنٹ کے سیکریٹری اطلاعات شبیر احمد، تحریک وحدت اسلامی، جموں وکشمیر ایمپلائیز موومنٹ کے جنرل سیکریٹری جنید الاسلام، کشمیر تحریک خواتین کی جنرل سیکریٹری شمیم شال،جموں
وکشمیرتحریک استقلال کے نائب چیئرمین مشتاق احمد بٹ، جموں وکشمیرپیپلز لیگ کے جنرل سیکریٹری نصیر الاسلام اورحریت رہنماء عبدالحمید لون نے اپنے الگ الگ بیانات میں تمام تر بھارتی مظالم کے باوجود کشمیری خواتین کو انکے عزم اور جرات پر سلام پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا آج جب خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کر رہی ہے تاہم مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین کو روزانہ تذلیل کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری خواتین اور بچے بلا جواز طورپر مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

موضوعات:

نپولین فالٹ

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ….مزید پڑھئے‎

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ….مزید پڑھئے‎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں