44

جاں بحق خاتون کے لواحقین کو 10 لاکھ دینے کا اعلان

روہڑی میں کراچی ایکسپریس کو پیش آنے والے حادثے میں جاں بحق ہونے والی خاتون عظمیٰ کے لواحقین کے لیے ریلوے حکام نے مالی امداد کا اعلان کر دیا۔

ریلوے حکام نے جاں بحق خاتون عظمیٰ کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ زخمیوں کو 1 سے 5 لاکھ روپے کی مالی مدد ملے گی۔

حادثے کی واحد جاں بحق خاتون عظمیٰ کراچی سے ساہیوال جا رہی تھیں۔

روہڑی اور پنوں عاقل کے درمیان کراچی ایکسپریس حادثے کا شکار ہو گئی، ٹرین کی 9 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جن میں سے 4 کھائی میں جا گریں۔

ٹرین حادثے میں 1 خاتون جاں بحق اور بچوں سمیت 40 افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے 30 افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ 10 زخمی زیرِ علاج ہیں۔

ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، حادثے کا شکار ہونے والی کراچی ایکسپریس کراچی سے لاہور جا رہی تھی۔

ریلوے حکام کے مطابق حادثہ سکھر سے 25 کلو میٹر دور پیش آیا، اہلِ علاقہ اور ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ساتھ پاک فوج، رینجرز اور پولیس نے بھی امدادی کارروائیوں میں شر کت کی۔

ٹرینوں کی آمد و رفت کئی گھنٹے معطل رہنے کے بعد بحال کر دی گئی ہے تاہم حادثے کے باعث کراچی جانے والی 7 اور لاہور پہنچنے والی 8 ٹرینیں تاخیر کا شکار ہو گئیں۔

ریلوے حکام کی جانب سے ہیلپ ڈیسک قائم کر دی گئی ہے، متاثرہ مقام پر ریلیف ٹرین پہنچ گئی ہے جو ٹریک کی بحالی کا کام کر رہی ہے۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین حادثے میں ٹریک سے گرنے والی مسافر کوچز کو اٹھانے کا کام جاری ہے، ٹرین حادثے کی جگہ پر کھائی میں گرنے والی کوچز بعد میں اٹھائی جائیں گی، متاثرہ ٹریک کو 10 گھنٹے تک بحال کر دیا جائے گا۔

ریلوے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ تفتیشی عملے کو حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 24 گھنٹوں میں جبکہ تفصیلی رپورٹ 2 ہفتوں میں دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

کراچی سے لاہور جانے والی کراچی ایکسپریس کو جس وقت حادثہ پیش آیا، اس وقت اکثر مسافر سو رہے تھے یا سونے کی تیاری کر رہے تھے۔

مسافروں نے بتایا کہ حادثے کے بعد ہر طرف سے مدد کے لیے پکارنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

وزیرِ ریلوے اعظم سواتی کہتے ہیں کہ حادثے میں کسی کی غفلت ہوئی تو برداشت نہیں کروں گا، اگر ٹرین ڈرائیور کی غلطی ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 4 سے 5 روز میں مل جائےگی، حادثہ شدید تھا۔

جاں بحق خاتون کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے وزیرِ ریلوے نے کہا کہ انہوں نے ریسکیو آپریشن براہِ راست مانیٹر کیا ہے، ریلوے حکام اور پولیس وقت پر حادثے کے مقام پر پہنچی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں