61

فن کا ایک اور باب بند لیجنڈ اداکار اعجاز درانی 86برس کی عمر میں انتقال کر گئے

لاہور( این این آئی)لیجنڈ اداکار ،ہدایتکارو فلمسازاعجاز درانی 86برس کی عمر میں انتقال کر گئے ، اعجاز درانی نے فلم ” ہیر رانجھا” سے بے پناہ مقبولیت حاصل کی ،شوبزشخصیات نے اعجازدرانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے انتقال سے فن کا ایک اور باب بند ہو گیا ۔اعجاز درانی 1935میں جلال پور جٹاں کےنواحی گائوں میں پیدا ہوئے۔ ہدایتکار منشی دل کی فلم حمیدہ میں وہ بطور ساتھی اداکار متعارف ہوئے۔ یہ فلم 1956 میں ریلیز ہوئی۔ فلم ساز دائود چاند کی اردو فلم مرزا صاحباں میں بھی وہ سائیڈ

ہیرو تھے۔ تاہم 1957 کی ریلیز فلم بڑا آدمی میں بطور ہیرو ان کی پہلی فلم تھی جس کی ڈائریکشن ہمایوں مرزا نے دی تھی ۔ان کی بطور ہیرو پہلی کامیاب فلم راز تھی جسے پاکستان کی پہلی نیم جاسوسی فلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ فلم راز میں ان کی ہیروئن مسرت نذیر تھیں۔ اردو فلموں کے بعد انہوں نے پنجابی فلموں میں بھی کام کیا ۔اعجاز کی بطور ہیرو پہلی سپر ہٹ فلم اشفاق ملک کی فلم سلمی تھی جو دھواں دھار بزنس کے ساتھ 40سے زائد ہفتے چلی۔بطور ہیرو ان کی پہلی سپرہٹ پنجابی فلم ہدایتکار مسعود پرویز کی مرزا جٹ تھی جس میں فردوس ان کی ہیروئن بنی تھیں اور اسی فلم سے فردوس اور اعجاز کی جوڑی مقبول ہوئی۔ مسعود پرویز کی سپر ہٹ فلم ہیر رانجھا کر کے وہ ہر دور کے لئے مقبول ہو گئے ۔اعجاز درانی کی کامیاب ہیروئنز میں سرفہرست نام بلاشبہاداکارہ فردوس کا ہی آتا ہے۔اعجاز درانی نے 150سے زائد فلموںمیں اداکاری کے جوہر دکھائے اور انہیں بہترین اداکاری پر بے شمار ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ۔انہوںنے بطور ہدایتکار اور پروڈیوسر بھی بے پناہ کامیابیاں سمیٹیں۔انہوں نے پہلی شادی ملکہ ترنم نور جہاں اور دوسری شادیفردوس سے کی لیکن دونوں شادیاں طلاق پر ختم ہوئیں۔سینئر ہدایتکار سید نور ،مصطفی قریشی ، قوی خان ، شفقت چیمہ، شان ، معمر رانا، حیدر سلطان، ریما، بہار بیگم، ریشم ، صائمہ، حسن عسکری،نیئر اعجاز،سعود ،لیلیٰ اورمیرا سمیت دیگر نے اعجاز درانی کے انتقال پر اپنےتعزیتی بیانات میں کہا ہے کہ اعجاز درانی کسی بھی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے ۔ انہوں نے فلموں میں لازوال کردارنبھائے اورامرہو گئے ۔ انہوں نے ہدایتکاری کے میدان میں بھی شاہکارتخلیق کئے ۔ وہ فلمی دنیا کا ستارہ تھے اور ان کے چلے جانے سے حقیقی معنوں میں فن کا ایک اور باب بند ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں