35

سنسنی مقابلے میں لاہور قلندرز نے کراچی کنگز کو زیر کر لیا

کراچی(این این آئی)نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے گیارہویں میچ میں لاہور قلندرز نے سنسنی خیزمقابلے کے بعد دفاعی چیمپئن کراچی کنگز کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔ لاہور قلندرز نے 187 رنز کا مطلوبہ ہدف 4 گیندیں قبل 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔لاہورقلندرز کو جیت کے لیے آخری 2 اوورزمیں 30 رنز درکار تھے کہ ڈیوڈے ویزے اور بین ڈنک نے محمد عامر کو اننگز کے انیسویں اوور میں 1 چھکا اور 3 چوکے لگا کر میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔میچ کے آخری اوور میں لاہور قلندرز کو جیت

کے لیے 10 رنز درکار تھے۔ ڈیوڈ ویزے نے ڈین کرسچن کو اوور کی پہلی دو گیندوں پر دو باؤنڈریز لگا کر میچ ختم کردیا۔لاہور قلندرزکے فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں لاہور قلندرز کی اننگز کا آغاز زیادہ اچھا نہ تھا، اننگز کے پہلے اوور میں ہی لاہور قلندرز کے دو کھلاڑی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوکر پویلین واپس لوٹ چکے تھے۔ کپتان سہیل اختر رن آؤٹ ہوئے جبکہ جوڈینلی کو محمد عامر نے کلین بولڈ کیا۔لاہور کے تیسرے آؤٹ ہونے والے بیٹسمین محمد حفیظ تھے وہ وقاص مقصود کی گیند پر 15 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔محض 33 کے مجموعی اسکور پر 3 وکٹیں گنوانے کے بعد لاہور قلندرز کے اوپنر فخر زمان اور اوورسیز کرکٹر بین ڈنک نے پراعتماد بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 119 رنزکی شاندار شراکت قائم کی۔اوپنر فخر زمان 54 گیندوں پر 8 چوکوں اور 4 چھکوں کی بدولت 83 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ یہ ان کی ایچ بی ایل پی ایس ایل میں نویں نصف سنچری تھی۔ وہ ڈین کرسچن کی گیند پر بابراعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔پانچویںنمبر پربیٹنگ کے لیے میدان میں اترنے والے ڈیوڈ ویزے نیکریز سنبھالتے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور محض 9 گیندوں پر 31 رنز کی برق رفتار اننگز کھیل کر لاہور قلندرز کو فتح دلادی۔ وہ تین چوکے اور تین چھکے لگا کر ناٹ آؤٹ رہے۔دوسر ی طرف بین ڈنک نے 5 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 57 رنز کی ناقابل شکست اننگزکھیلی۔ لاہور قلندرز نے 187 رنز کا مطلوبہ ہدف 19.2 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔کراچی کنگز کے محمد عامر، وقاص مقصود اور ڈین کرسچن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔اس سے قبل لاہور قلندر ز کے کپتان سہیل اختر نے ٹاس جیت کر کراچی کنگز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو میزبان ٹیم کو پہلا نقصان اس وقتاٹھانا پڑا جب میچ کے تیسرے اوور کی پانچویں گیند پر بابر اعظم صرف پانچ رنز بنا کر شاہین آفریدی کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔لاہور قلندر نے مجموعی طور پر میچ میں ناقص فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی یقینی کیچزچھوڑے تاہم پانچویں اوور میں حارث رؤف نے ایک تھرو سیدھی وکٹ پر مار کر ایک شاندار رن آؤٹ کیا اوراگلی ہی گیند پرفاسٹ باؤلر احمد دانیال نے کولن انگرم کو کھاتہ کھولے بغیرہی پویلین واپس پہنچادیا۔37 کے مجموعی اسکور کراچی کنگز کی 3 وکٹیں گر چکی تھیں۔اس موقع پر افغانستان کے آل راؤنڈر محمد نبی میدان میں آئے اور اوپنر شرجیل خان کے ہمراہ ذمہ دارانہ اور دھواں دھار بیٹنگ کاسلسلہ شروع کیا۔ دونوں بلے بازوں نےچوتھی وکٹ کے لیے 76 رنز کی عمدہ شراکت قائم کی۔اس دوران شرجیل خان نے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ ان کی اننگز میں پانچ چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔ وہ 64 کے انفرادی اسکور پر ڈیوڈ ویزے کا شکار بنے۔دوسری طرف سمت پٹیل کے ایک اوور میں 2 چھکے اور ایک چوکا لگانے والے محمد نبی نے 35 گیندوں پر 57رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی۔چار چوکوں اور تین چھکوں پر مشتمل ان کی اننگز کا خاتمہ حارث رؤف نے کیا۔ڈین کرسچن کے 27 اور وقاص مقصود کے 12 رنز کی بدولت کراچی کنگز نے مقررہ بیس اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 186 رنز بنائے۔ کپتان عماد وسیم اور محمد عامر بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے۔محمد الیاس چار اور ارشد اقبال بغیر کوئی رن بنائے کریز پر موجود رہے۔شاہین شاہ آفریدی نے 27 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ احمد دانیال،سمت پاٹیل، ڈیوڈ ویزے اور حارث رؤف نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

موضوعات:

میرے دو استاد

سنتوش آنند 1939ء میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے‘ یہ بلند شہر کا چھوٹا سا قصبہ تھا‘ فضا میں اردو‘ تہذیب اور جذبات تینوں رچے بسے تھے چناں چہ وہاں کا ہر پہلا شخص شاعر اور دوسرا سخن شناس ہوتا تھا‘ سنتوش جی ان ہوائوں میں پل کر جوان ہوئے‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس کی ڈگری لی ….مزید پڑھئے‎

سنتوش آنند 1939ء میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے‘ یہ بلند شہر کا چھوٹا سا قصبہ تھا‘ فضا میں اردو‘ تہذیب اور جذبات تینوں رچے بسے تھے چناں چہ وہاں کا ہر پہلا شخص شاعر اور دوسرا سخن شناس ہوتا تھا‘ سنتوش جی ان ہوائوں میں پل کر جوان ہوئے‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لائبریری سائنس کی ڈگری لی ….مزید پڑھئے‎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں