ٹی20 ورلڈ کپ بھارت میں ہو گا یا پھر یو اے ای میں، پاکستان نے بھارت میں کھیلنے کیلئے تصدیق مانگ لی

لاہور(آن لائن )پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد ے متعلق مسائل ہیں اور اگر مکمل پروٹوکول کے ساتھ یہ یہاں منقعد نہیں ہوا تو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہوگا۔ چیئرمین پی سی بی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہکراچی میں پریس کانفرنس کی۔ احسان مانی نے کہا کہ رواں برس اکتوبر میں ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی ہونے والا ہے، جس پر اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کو بتایا ہے کہ

ہم نے آئی سی سی سے کہا ہے کہ ہمیں تحریری تصدیق چاہیے کہ ہمارے کھلاڑیوں، اسکواڈ، مداح اور خاص کر صحافیوں کو ویزے ملیں تاکہ وہ صحیح طرح رپورٹ کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کو پہلے ہی اس حوالے سے بتایا ہے اور کل ایک اور ملاقات ہے جہاں دوبارہ یہ نکتہ اٹھاؤں گا، آئی سی سی نے اسی مہینے میں ضمانت دینے کی بات کی ہے۔احسان مانی کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا آئینی حق ہے اور ہمیں وہاں سے کوئی نکال نہیں سکتا، یہ ایونٹ بھارت میں مکمل پروٹوکول کے ساتھ ہوگا یا پھر کہیں اور منتقل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ویزا، ٹیکس کلیئرنس اور کورونا جیسے مسائل ہیں اور آئی سی سی نے اپنی متبادل منصوبہ بندی میں پہلے ہی فیصلہ کیا ہے کہ اگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت میں نہیں ہوا تو متحدہ عرب امارات میں ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی انتظامیہ کی جانب سے پیغام آیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ 31 مارچ سے پہلے یہ فیصلہ کیا جائے۔چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ گزشتہ برس ہونا تھا لیکن 2021 میں شیڈول تھا مگر اب لگتا ہے کہ رواں سال بھی ناممکن ہوگا کیونکہ جون میں ٹیسٹچمپیئن شپ کا فائنل ہو رہا ہے اور سری لنکا نے میزبانی کی ہانمی بھری تھی جبکہ اب تاریخوں میں مسئلہ آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ رواں برس نہیں ہوسکے گا اور 2023 تک مؤخر کرنا پڑے گا۔ اس موقع پر وسیم خان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت ٹیسٹ چمپیئن شپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے ساتھ کھیلے گا تو رواں برسہونے والا ایشیا کپ نہیں ہوگا۔ احسان مانی نے کہا کہ پی سی بی بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں ڈومیسٹک کرکٹ ہمارا بنیادی موضوع تھا اور ہم نے 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز کے بورڈ کے چیئرمین اور اراکین کا اعلان کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ اس میں سیاسی پہلو نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بورڈز کا سب سے پہلا کام یہ ہوگا کہ وہ اپنے چیفایگزیکٹو، ہیڈ آف کرکٹ آپریشنز اور چیف اکاؤنٹنٹ کا انتخاب کریں، ہم ان سے تعاون کریں گے لیکن فیصلہ ان کا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایسوسی ایشنز میں 15 سے 16 شہر ہیں اور 90 سے 100 کوچز کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سابق کرکٹرز کی خدمات حاصل کریں گے اور اگلے 3،4 ہفتوں میں اس پر کام شروع ہوجائے گا۔احسان مانی نے کہا کہ یکم مارچ سے کلب کی رجسٹریشن شروع ہوجائے گی اور اس کی اسکروٹنی بھی کی جائے گی۔ ایک سوال پر پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ ہم اس کی تصدیق کا انتظار کر رہے ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ اس سال نہیں ہوگا تو آگے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جبکہ ٹیم کو جنوبی افریقہ اور زمبابوے جانے کے بعد آرام کا موقع بھی مل جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں