43

گرفتاری کے بعد بھارتی پائلٹ ابھی نندن اور پاک فوج کے جوانوں کے مابین کن جملوں کا تبادلہ ہوا؟

آزاد کشمیر (ا ±خصوصی رپورٹر) : پاک فضائیہ نے آج سے دو سال قبل 27 فروری کو بھارت کے مس ایڈونچر کا بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارت کے دو طیارے مار گرائے تھے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا۔ ابھی نندن کو گرفتار کرنے کے بعد اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا اور کیا بات چیت ہوئی اس حوالے سے پاک فوج کے جوان کیپٹن حسیب اور کیپٹن عبداللہ نے تمام تفصیلات بتا دیں۔
کیپٹن حسیب نے بتایا کہ 27 فروری کی صبح میں اپنی یونٹ کے ایریا میں تھا جس وقت ہم نے بہت زیادہ Aerial Activity نوٹ کی۔ اپنے سیکٹر کے اندر اسی اثنائ میں ہم نے ایک دھماکے کی آواز سنی جس میں Mig-21 Bisonایک فائر بال کی طرح زمین کی طرف آتے ہوئے نظر آیا۔ اور ا ±س کے ساتھ ایک پیراشوٹ بھی تھا۔ ا ±س وقت میرے کمانڈنگ آفیسر نے مجھے آرڈر دیا کہ میں QRF سائٹ پر لے جاو ¿ں اور ایریا کو Secure کروں اور پائلٹ کر فالو کروں۔
میں وقت ضائع کیے بغیر جو قریب ترین گاڑی اور QRF مہیا تھی ا ±س پر سوار ہوا اور QRF کے ساتھ نکل گیا۔ پیراشوٹ کو Good Judgment کے ساتھ فالو کرتے ہوئے Quickest Possible ٹائم فریم میں سائٹ پر پہنچ گیا۔ جب میں سائٹ پر پہنچا تو وہاں لوگوں کا مورال بہت ہائی تھا۔ ہمیں ا ±سے بچانا اور زندہ رکھنا تھا۔ 27 فروری کے حوالے سے حوالدار نذر نے بتایا کہ یہاں سے ابھی نندن کے ہاتھ باندھ کر پیچھے والی سڑک پر لے جا کر اسے گاڑی میں بٹھا دیا۔
جبکہ ملک عثمان نے بتایا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو ہم نے پکڑ کر ریسکیو کیا۔ ا ±س کی تلاشی لی۔ فرسٹ ایڈ کی اور یہاں ہم یونٹ ہیڈ کوارٹر لے گئے۔ میڈیکل چیک اپ کے لیے ملٹری اسپتال کے حوالے کیا۔ کیپٹن عبد اللہ کا کہنا تھا کہ ا ±س کے ناک اور چہرے میں سے خون بہہ رہا تھا۔ ا ±س کا چہرہ اور سر زخمی تھا۔ پاکستان آرمی کا پروفیشنل ہونے کے ناطے، میڈیکل اور انسانی اخلاقیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں نے ا ±س کی ابتدائی طبی امداد فوری شروع کی۔
ہم نے بھارتی پائلٹ کے زخم صاف کیے اور ا ±س کی پٹی کی۔ میں نے ا ±س کے Vital Senseچیک کیے۔ ا ±س کو Pain Killerانجکشن اورFluids لگائے۔ دو گھنٹے تک ا ±س کو بٹالین ہیڈ کوارٹر میں اپنی زیر نگرانی رکھا اور یہ تسلی کرنے کے بعد کہ ا ±س کی صحت یا جان کو مزید کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کیپٹن عبد اللہ نے بتایا کہ بریگیڈ ہیڈ کواٹرز کے براہ راست احکامات پر میں ا ±س کو اگلی میڈیکل فیسیلٹی میں لے گیا جہاں ا ±س کا مزید علاج کیا گیا۔کیپٹن عبد اللہ نے بتایا کہ جب میں بھارتی پائلٹ کو ایمبولینس میں لے کر جا رہا تھا تو ا ±س نے مجھے کہا ”’ Dr. You will be famous in No Time”۔ جس کے جواب میں میں نے ا ±س سے کہا کہ ابھی نندن ”You will be more famous in your country”۔ میری بات س ±ن کر بھارتی پائلٹ نے مجھ سے کہا کہ ”Dr.There is a difference to become a POW and get caught in the hands of enemies”۔
یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں 14 فروری 2019ئ کو ایک کار خود کش دھماکے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کا الزام بھارت نے براہ راست پاکستان پر عائد کیا تھا۔
پلوامہ واقعے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوئی اور 26 فروری کی رات بھارتی فضائیہ نے لائن ا?ف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جس پر پاک فضائیہ کی بروقت جوابی کارروائی پر بھارتی طیارے بالاکوٹ کے قریب نصب ہتھیار پھینکتے ہوئے بھاگ نکلے تھے۔ جس کے بعد بدھ کی صبح 27 فروری 2019ئ کو پاک فضائیہ نے بھارت کو سرپرائز دیتے ہوئے بھارت کے دو طیارے مار گرائے جبکہ ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔پاک فوج نے ابھی نندن کو مشتعل ہجوم سے بچایا اور حراست میں لے لیا تھا۔ پاک فوج نے ابھی نندن کا علاج بھی کروایا۔ بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی پاک فوج میں حراست میں آنے کے بعد سے بھارتی میڈیا میں یہ چرچا تھا کہ پاکستان اب پائلٹ کی رہائی کے لیے بھارت کے سامنے شرائط رکھے گا ، بھارتی حکومت نے مو ¿قف دیا کہ ہم کسی قسم کی شرائط ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
لیکن جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے بھارتی پائلٹ کی رہائی کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہا کہ ہم بھارتی پائلٹ کو امن کے فروغ کے لیے جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے اس فیصلے کو نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ عالمی سطح پر بھی خوب سراہا گیا تھا۔جمعہ کے روز یکم مارچ 2019ئ کو بھارتی پائلٹ ابھینندن کو پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت واہگہ بارڈر پر بھارت کے حوالے کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں