43

یور آنر کیوں کہا، چیف جسٹس وکیل پر برہم ،حیرت انگیز قدم اٹھا لیا

نئی دہلی (این این آئی )بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عرضی گزار سے کہا ہے کہ چونکہ بینچ کو غلط لقب سے مخاطب کیا گیا اس لیے سماعت ملتوی کی جاتی ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوڈے کی سربراہی والی ایک بینچ نے غیر مناسب طریقے سے عدالت عظمی کو مخاطبکرنے مدعی کو متنبہ کیا اور کہا کہ غیر مناسب القابات سے گریز کیا جائے۔ بینچ نے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور سماعت یہ کہہ کر ملتوی کر دی گئی کہ پہلے اچھی طرح سے تیاری

کی جائے جس کے بعد سماعت ہوگی۔اپنے کیس کی پیروی کرتے ہوئے ایک وکیل نے جب عدالت کو یور آنر(عزت ماب)کے الفاظ سے مخاطب کیا تو چیف جسٹس نے کہاکہ آپ ہمیں یور آنر جیسے غلط الفاظ سے مخاطب نہ کریں، کیونکہ یہ امریکا کی سپریم کورٹ نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ جب آپ ہمیں یور آنر کہتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ آپ کے ذہن میں امریکی سپریم کورٹ ہے۔ جج صاحبان کا کہنا تھا کہ یور آنر جیسے الفاظ امریکی سپریم کورٹ میں اور بھارت کی مجسٹریٹ سطح کی عدالتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس پر مذکورہ وکیل نے فوری طور معذرت پیش کی اور کہا کہ پھر وہ عدالت عظمی کو یور لارڈ شپ کہہ کر پکاریں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا، کچھ بھی ہو، لیکن غیر مناسب القابات سے قطعی مخاطب نہ کریں۔ اس کے بعد بینچ نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ آئندہ سپریم کورٹ میں حاضر ہونے سے پہلے پوری طرح تیاری کر کے آئیں اور اس کے ساتھ سماعت چار ہفتوں کی لیے ملتوی کر دی گئی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس بارے میں خصوصی ہدایات جاری کرے تاکہ عدالتوں کا نظام بہتر ہو سکے اور برسوں سے التوا کے شکار لاکھوں مقدمات پر فیصلے ہوسکیں۔ مقدمے کی پیری کے لیے وہ خود ہی پیش ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں