این اے 133 ؛ پولنگ بوتھ کے اندر انتخابی نشان پر مہر لگانے کی ویڈیو سامنے آگئی

الیکشن بوتھ میں فون لے جانے کی اجازت ہے؟ ن لیگی رہنماء عظمیٰ بخاری نے الیکشن کمیشن سے سوال پوچھ لیا

لاہور ( نیوز ڈیسک ) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133 میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران پولنگ بوتھ کے اندر سے ووٹ ڈالنے کی ویڈیو سامنے آگئی ۔ تفصیلات کے مطابق حلقہ این اے 133 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں پولنگ بوتھ کے اندر ووٹ ڈالتے ہوئے بنائی گئی ویڈیو پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنماء عظمیٰ بخاری کی جانب سے جاری کی گئی ہے ، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ووٹر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان تیر پر مہر لگائی اور اس کی ویڈیو بھی بناڈالی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں ن لیگی رہنماء عظمیٰ بخاری نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ الیکشن بوتھ میں فون لے جانے کی اجازت ہے؟ تاکہ مہر کا ثبوت بوقت ضرورت کام آئے اور کاروائی و کاروبار آسان ہو جائے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133 کے ضمنی الیکشن کو سیاسی عمل کے نام پر سیاہ دھبہ قرار دے دیا ، جیو نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف وسطی پنجاب کے صدر سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہا ہے کہ این اے 133 کے ضمنی الیکشن میں آج 20 فیصد سے بھی کم ووٹ کاسٹ ہوگا ، اس لیے آج کا الیکشن انتخابی عمل کے نام پر سیاہ دھبہ ہے ، ضمنی الیکشن میں ہمارا امیدوار میدان میں نہیں ہے ، اس لیے ہم کسی کو ووٹ نہیں دیں گے، جس کے لیے ہم نے آج پارٹی ووٹرز کو گھروں پر رہنے کی اپیل کی ہے۔
خیال رہے کہ لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133 میں ہونے والے ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا عمل جاری ہے ، جہاں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی پارٹی میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے ، مسلم لیگ ن کے رہنماء پرویز ملک کے انتقال کی وجہ سے خالی والے حلقہ این اے 133 لاہور کی اس نشست پر ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی ، حلقے میں 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ، جن میں مرد ووٹرز 2 لاکھ 33 ہزار 558 اورخواتین 2 لاکھ 6 ہزار 927 ہیں ، پولنگ کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے این اے 133 میں 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں ، جن میں اے کیٹیگری کے 22، بی کیٹیگری کے 198 اور سی کیٹیگری کے 34 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں ، ان میں سے 200 پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جہاں مرد اور خواتین علیحدہ علیحدہ ووٹ کاسٹ کریں گے جب کہ 54 مخلوط پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ حلقے میں مجموعی طور پر 13 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا جس میں آزاد امیدواروں کی تعداد زیادہ ہے تاہم اس نشست کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے ، یہاں پرویز ملک کی اہلیہ شائستہ پرویز ن لیگ اور اسلم گل پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں جب کہ ضمنی انتخابات کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہیں جس کے لیے مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد افسران و اہل کار ڈیوٹی دے رہے ہیں ، ایس ایس پی آپریشنز کی نگرانی میں 6 ایس پیز اور 14 ایس ڈی پی اوز فرائض انجام دے رہے ہیں ، اس کے علاوہ 44 ایس ایچ اوز، 52 ڈولفن و پیرو اور 7 کوئیک ریسپانس ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں