اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن پاکستان کو 76.15کروڑ ڈالر قرض دیگی

انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن پاکستان کو تجارتی فنانسنگ کے لیے 76.15 کروڑ ڈالر کی مداربہ فنانسنگ ایک سال کے لیے فراہم کرے گا۔
اسلام آباد (کامرس ڈیسک) وزارت اقتصادی امور کے مطابق یہ فنانسنگ آئی ایف ٹی سی پاکستان کے لیے 3 سال کے لیے 4.5 ارب ڈالر کی فنانسنگ ونڈو کا حصہ ہے، جس کی رقم خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی درآمد کے لیے مختص کی گئی ہے۔
اس قرض سے پاکستان خام تیل، ایل این جی اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرے گا۔ یہ رقم پارکو، پی ایس او اور پاکستان ایل این جی کو فراہم کی جائے گی اور پاکستان فنانسنگ کی سہولت فوری طور پر استعمال کر سکے گا۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) نے رواں سال جون میں پاکستان کو ساڑھے 4 ارب ڈالر قرض دینے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو تین سال میں ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالر ملنے ہیں۔
سعودی عرب کا پاکستان کو 4.2 ارب ڈالر دینے کا اعلان
سعودی عرب نے 27 اکتوبر کو پاکستان کو کرونا وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے چار ارب 20کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔
سعودی ترقیاتی فنڈ نے پاکستان کو سالانہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل دینے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس تین ارب ڈالر جمع کروانے کا اعلان کیا تھا۔
جس پر وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے اپنی ٹویٹ پیغام میں کہا کہ اس تیل کے لیے پاکستان کو فوری طور پر ادائیگی بھی نہیں کرنی ہوگی اور یہ سہولت موخر ادائیگی کی صورت میں دستیاب ہوگی۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سعودی عرب اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں بڑی رقم جمع کی یا تیل کی موخر ادائیگی کی سہولت میں دی، موخر ادائیگی کی سہولت 1998 میں شروع ہوئی جب پاکستان کو جوہری تجربات کے بعد بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سال 2014 میں بھی سعودی عرب نے ادائیگی کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد کے لیے پاکستان کے مرکزی بینک میں 1.5 ارب ڈالر جمع کرائے تھے۔
سردیوں میں گیس کی قلتکچھ روز قبل وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کو سردیوں میں گیس کی قلت کا سامنا ہے۔ امریکا نے قدرتی گیس کی قیمتوں میں 116 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے گھریلو استعمال کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں صرف اس گیس کی قیمت میں اضافہ کرنا تھا جو ہم برآمد کر رہے تھے، ہم قیمتیں کم کرنا چاہتے تھے لیکن یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے کیونکہ اس میں بین الاقوامی خریداری شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں