109

نیسلے لیکٹوجن پاو ¿ڈر دودھ پینے سے نومولود بچی کی مبینہ موت کا معاملہ

لاہور (بیورو ڈسک) : نیسلے لیکٹوجن پاو ¿ڈر دودھ سے نومولود بچی کی مبینہ موت کے معاملے پر عدالت نے پولیس کی رپورٹ کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے نیسلے کمپنی کے حکام کو طلب کر لیا ہے۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر وکیل حسان نیازی نے یہ خبر شئیر کی۔ انہوں نے ٹویٹر پر جاری ویڈیو پیغام میں بتایا کہ عثمان بھٹی کی نومولود بچی کو نیسلے لیکٹوجن پاو ¿ڈر دودھ دیا گیا تھا جس سے بچی کی موت واقع ہو گئی تھی۔
یہ واقعہ تین سال پہلے کا ہے۔ حسان نیازی نے بتایا کہ نیسلے کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے میں ہمیں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔حسان نیازی نے کہا کہ ہم نے نیسلے کمپنی کے خلاف قتل کی بجائے مجرمانہ غفلت کا کیس دائر کرنے کی درخواست کی تھی۔عثمان بھٹی نے بچی کا پوسٹمارٹم کروانے کی درخواست کی جس کے بعد نیسلے نے عدالت سے رجوع کر کے پوسٹمارٹم کی مخالفت کی ، لیکن ڈیڑھ ماہ کے بعد بچی کا پوسٹمارٹم ہوا۔انہوں نے اپنی ویڈیو میں پنجاب پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس نیسلے سے اتنا ڈرتی ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے، نیسلے سے ہماری حکومت اور پنجاب پولیس دونوں کی جان جاتی ہے۔ پنجاب پولیس نے کرسٹل کلیئر کیس کی رپورٹ بنائی ، پہلے رپورٹ کو ٹیمپر کیا گیا ، پھر پنجاب فرانزک کے وہ دستاویز بھی غائب کر دئے گئے جو عثمان بھٹی کے حق میں تھے ، پولیس نے جو رپورٹ بنائی وہ نیسلے کے حق میں تھی۔انہوں نے بتایا کہ اس تین سال کے عرصہ میں عثمان بھٹی کے گھر پر دو مرتبہ فائرنگ کی گئی۔ ایک مرتبہ سات گولیاں گیٹ پر ماری گئیں اور دوسری مرتبہ چار گولیاں ماری گئیں۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر نومولود بچی کے والدین ، ججز اور پراسیکیوٹر کو بھی دھمکایا گیا ، پیشیوں پر پچاس ، پچاس وکلا لائے گئے۔ نومولود بچی کے والدین نے بہت بہادری کا مظاہرہ کیا لیکن آج تین سال کے بعد ماڈل ٹاو ¿ن کچہری کی عدالت نے نیسلے کے خلاف حکم جاری کیا اور پنجاب پولیس کی جانب سے نیسلے کے حق میں تیار کی گئی رپورٹ کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔حسان نیازی نے بتایا کہ عدالت نے نیسلے حکام کو 9 مارچ کو طلب کر لیا ہے۔ حسان نیازی نے اپنے ویڈیو پیغام میں حسان نیازی نے ویڈیو پیغام میں مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں:یاد رہے کہ تین سال قبل یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ نیسلے دودھ لیکٹوجن ون سے ایک ماہ کی بچی کی موت واقع ہوگئی۔ بچی کا پوسٹمارٹم ہو اتوفرانزک رپورٹ میں حقائق سامنے آئے کہ لیکٹوجن ون میں کیلشیم ، پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ تھی، دودھ پینے سے بچی کا سانس رک گیا، بچی کو اسپتال لے جایا گیا لیکن بچی جانبر نہ ہو سکی۔
نیسلے کے لیکٹوجن پاو ¿ڈر دودھ پینے سے بچی کی موت کے بعد ا ±ردو پوائنٹ نے بچی کے والد عثمان بھٹی سے رابطہ کیا جس میں انہوں نے تمام حقائق بیان کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں